نے ا س کی داد رسی کر دی۔
(11)…ایک شکاری کی قید میں موجود ہرنی نے بچوں کو دودھ پلانے کے لئے جانے کی اِلتجاء کی تو حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ا س کی التجاء پوری کر دی۔
الغرض دو عالَم کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی بارگاہ میں سوال کر کے اپنی منہ مانگی مرادیں پانے والوں کی اتنی مثالیں موجود ہیں کہ اگر ان سب کو تفصیل سے بیان کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب مرتب ہو سکتی ہے۔اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کیا خوب فرماتے ہیں :
مالکِ کَونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں دوجہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں
اور فرماتے ہیں :
منگتا کا ہاتھ اٹھتے ہی داتا کی دَین تھی دوری قبول و عرض میں بس ہاتھ بھر کی ہے
بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت میں سائل سے طا لبِ علم مراد ہے لہٰذا اس کا اِکرام کرنا چاہیے اور جو اس کی حاجت ہو اسے پورا کرنا چاہئے اور اس کے ساتھ تُرش روئی اور بدخُلقی سے نہیں پیش آنا چاہئے۔( خازن، الضحی، تحت الآیۃ:۱۰، ۴/۳۸۸)
وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠(۱۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔
{وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ: اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔ } یہاں نعمت سے مراد وہ نعمتیں ہیں جو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو عطا فرمائیں اور وہ نعمتیں بھی مراد ہیں جن کا اللّٰہ تعالیٰ نے حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے وعدہ فرمایا ہے اور نعمتوں کا چرچا کرنے کا اس لئے حکم فرمایا کہ نعمت کو بیان کرنا شکر