Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
733 - 881
(2)…غزوۂ بدر کے موقع پر حضرت معوذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنا کٹا ہوا بازو لے کے حاضر ہوئے توسیّد المرسَلین  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے اپنے دہنِ اَقدس سے مبارک لعاب لگا کر اسے جوڑ دیا۔
(3)…غزوۂ اُحد میں  تیر لگنے سے حضرت قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی آنکھ نکل گئی اور وہ اپنی نکلی ہوئی آنکھ لے بارگاہِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  میں  حاضر ہوگئے تو رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے لعاب ِدہن لگا کر ان کی آنکھ کو درست کر دیا۔
(4)… غزوۂ خیبر کے موقع پرحضرت علی المرتضیٰ  کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے آشوبِ چشم کی شکایت کی تو نبی اکرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے اپنالعابِ دہن لگا کر ان کی بیماری دور کر دی۔
(5)…اسی غزوہ کے موقع پر حضرت سلمہ بن اکوع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنی زخمی پنڈلی لے کر حاضر ہوئے تو رسولِ کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے اپنے لعابِ دہن سے اسے درست کر دیا۔
(6)…حضرت عبد اللّٰہ بن عتیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  اپنی ٹوٹی ہوئی ٹانگ لے بارگاہِ رسالت  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ میں  حاضر ہوئے تو نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے اپنا دستِ اَقدس پھیرکر ان کی ٹانگ کو درست کر دیا۔
(7)…ایک موقع پرصحابہ ٔکرام رَضِیَ  اللّٰہُ تَعَالیٰٰ عَنْہُمْ نے پانی ختم ہو جانے پر فریاد کی تو انگلیوں  سے پانی کے چشمے بہا دئیے۔
	یہ تو دُنْیَوی عطاؤں  کی چند مثالیں  بیان کی ہیں  اور اب اُخروی عطا کے بارے میں  سنئے،چنانچہ 
(8)…حضرت ربیعہ اور حضرت عکاشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے جنت مانگی تو اللّٰہ تعالیٰ کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے انہیں  جنت دے دی۔
(9)…کھجور کے ایک تنے نے عرض کی کہ مجھے جنت میں  بودیا جائے توسرکارعالی وقار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے اسے جنت میں  بو دیا۔
	 اور حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی بارگاہ میں  صرف انسان ہی فریاد نہیں  کرتے تھے بلکہ جانور بھی اپنی فریادیں  عرض کر کے اپنی داد رَسی کرواتے تھے،چنانچہ
(10)…ایک اونٹ نے کام زیادہ ہونے اور چارہ کم ہونے کی فریاد کی توحضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ