Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
732 - 881
 گے (یہ فرما کر)آپ نے کلمہ کی اوربیچ کی انگلی سے اشارہ کیا اور ان کے درمیان کچھ کشادگی فرمائی۔( بخاری، کتاب الطلاق، باب اللعان، ۳/۴۹۷، الحدیث: ۵۳۰۴)
	سرِ دست یتیموں  کے بارے میں  اسلام کی یہ تین تعلیمات ذکر کی ہیں  اوریتیموں  کے متعلق اسلام کے مزید احکامات جاننے کے لئے سورۂ نساء کی ابتدائی آیات کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں ۔
وَ اَمَّا السَّآىٕلَ فَلَا تَنْهَرْؕ(۱۰)
ترجمۂکنزالایمان: اور منگتا کو نہ جھڑکو ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اورکسی بھی صورت مانگنے والے کو نہ جھڑکو۔
{وَ اَمَّا السَّآىٕلَ فَلَا تَنْهَرْ: اورکسی بھی صورت مانگنے والے کو نہ جھڑکو۔ } یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ، جب آپ کے درِ دولت پر کوئی سوالی آ کر کچھ مانگے تو اسے کسی بھی صورت جھڑکنا نہیں  بلکہ اسے کچھ دے دیں  یا حسنِ اَخلاق اور نرمی کے ساتھ ا س کے سامنے نہ دینے کاعذر بیان کردیں ۔( خازن، الضحی، تحت الآیۃ:۱۰، ۴/۳۸۸، مدارک، الضحی، تحت الآیۃ: ۱۰، ص۱۳۵۷، ملتقطاً)
	 اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اسی آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
مومن ہوں  مومنوں  پہ رؤفٌ رحیم ہو			سائل ہوں  سائلوں  کو خوشی لانہر کی ہے
	اور فرماتے ہیں :
مانگیں  گے مانگے جائیں  گے منھ مانگی پائیں  گے		سرکار میں  نہ ’’لا‘‘ ہے نہ حاجت ’’اگر‘‘ کی ہے
منگتا کا ہاتھ اٹھتے ہی داتا کی دَین تھی:
	سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کی اس شان کی کچھ جھلک ملاحظہ ہو،چنانچہ 
(1)…غارِ ثَور میں حضرت صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی مجھے سانپ نے کاٹ لیا ہے توتاجدارِ رسالت صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے اپنا لعابِ دہن لگا کر زہر کا اثر دور کر دیا۔