Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
731 - 881
 تَاْكُلُوْهَاۤ  اِسْرَافًا  وَّ  بِدَارًا  اَنْ  یَّكْبَرُوْاؕ-وَ  مَنْ  كَانَ  غَنِیًّا  فَلْیَسْتَعْفِفْۚ-وَ  مَنْ  كَانَ  فَقِیْرًا  فَلْیَاْكُلْ  بِالْمَعْرُوْفِؕ-فَاِذَا  دَفَعْتُمْ  اِلَیْهِمْ  اَمْوَالَهُمْ  فَاَشْهِدُوْا  عَلَیْهِمْؕ-وَ  كَفٰى  بِاللّٰهِ  حَسِیْبًا‘‘(النساء:۵،۶)
کے مال ان کے حوالے کردو اور ان کے مال فضول خرچی سے اور (اس ڈر سے)جلدی جلدی نہ کھاؤ کہ وہ بڑے ہو جائیں گے اور جسے حاجت نہ ہو تو وہ بچے اور جو حاجت مند ہو وہ بقدرمناسب کھاسکتا ہے پھر جب تم ان کے مال ان کے حوالے کرو تو ان پر گواہ کرلو اور حساب لینے کے لئے اللّٰہ کافی ہے ۔ 
	اور ارشاد فرمایا:
’’وَ  اٰتُوا  الْیَتٰمٰۤى  اَمْوَالَهُمْ  وَ  لَا  تَتَبَدَّلُوا  الْخَبِیْثَ  بِالطَّیِّبِ   ۪-  وَ  لَا  تَاْكُلُوْۤا  اَمْوَالَهُمْ  اِلٰۤى  اَمْوَالِكُمْؕ- اِنَّهٗ  كَانَ  حُوْبًا  كَبِیْرًا‘‘(النساء:۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یتیموں  کو ان کے مال دیدو اورپاکیزہ مال کے بدلے گندا مال نہ لواور ان کے مالوں  کو اپنے مالوں  میں  ملاکر نہ کھا جاؤ بیشک یہ بڑا گناہ ہے۔ 
اور ارشاد فرمایا:
’’اِنَّ  الَّذِیْنَ  یَاْكُلُوْنَ  اَمْوَالَ  الْیَتٰمٰى  ظُلْمًا  اِنَّمَا  یَاْكُلُوْنَ  فِیْ  بُطُوْنِهِمْ  نَارًاؕ-وَ  سَیَصْلَوْنَ  سَعِیْرًا‘‘(النساء:۱۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جو ظلم کرتے ہوئے یتیموں  کا مال کھاتے ہیں  وہ اپنے پیٹ میں  بالکل آگ بھرتےہیں اور عنقریب یہ لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں  جائیں  گے۔ 
(2)…یتیموں  کے ساتھ سلوک کرنے کے بارے میں  حکم:چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’مسلمانوں  کے گھروں  میں  وہ بہت اچھا گھر ہے جس میں  یتیم کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہو اور وہ بہت برا گھر ہے جس میں  یتیم کے ساتھ بُرابرتاؤ کیا جاتا ہے۔( ابن ماجہ، کتاب الادب، باب حق الیتیم، ۴/۱۹۳، الحدیث: ۳۶۷۹)
(3)… یتیم کی کفالت کرنے کی ترغیب:چنانچہ حضرت سہل بن سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ میں  اور یتیم کو پالنے والا(وہ یتیم خواہ اپنا ہو یا غیر کا) جنت میں  اس طرح ہوں