اللّٰہ تعالیٰ ہمیں بھی قناعت کی عظیم دولت سے مالا مال فرمائے،اٰمین۔
فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ(۹)
ترجمۂکنزالایمان: تو یتیم پر دباؤ نہ ڈالو ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو کسی بھی صورت یتیم پر سختی نہ کرو۔
{فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْ: تو کسی بھی صورت یتیم پر سختی نہ کرو۔ } دورِ جاہلیّت میں یتیموں کے بارے میں اہلِ عرب کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ان کے مالوں پر قبضہ کر لیتے ،ان پر دباؤ ڈالتے اور ان کے حقوق کے معاملے میں ان کے ساتھ زیادتی کیا کرتے تھے،اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ،آپ کسی بھی صورت یتیم پر سختی نہ فرمائیے گا۔( خازن، الضحی، تحت الآیۃ: ۹، ۴/۳۸۷)
یتیموں سے متعلق دین ِاسلام کا اعزاز:
دین ِاسلام کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے یتیموں کے حقوق واضح کئے،ان کے چھینے ہوئے حق انہیں واپس دلائے اور عرصۂ دراز سے یتیموں پر جاری ظلم و ستم کا خاتمہ کیا ۔یتیموں کے بارے میں دین ِاسلام نے مسلمانوں کو کیسی عمدہ تعلیم دی ہے اس کی کچھ جھلک ملاحظہ ہو۔
(1)…یتیموں کے مال کے بارے میں حکم،چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا(۵)وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَۚ-فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْۚ-وَ لَا
ترجمۂکنزُالعِرفان: اورکم عقلوں کوان کے وہ مال نہ دوجسیاللّٰہ نے تمہارے لئے گزر بسر کا ذریعہ بنایاہے اور انہیں اس مال میں سے کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے اچھی بات کہو۔اور یتیموں (کی سمجھداری)کو آزماتے رہو یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے قابل ہوں تو اگر تم ان کی سمجھداری دیکھو تو ان