وَالسَّلَام کو اپنے کلام سے مشرف کیا اور اسی وقت جادو گر سجدے میں گرے، اور بعض مفسرین کے نزدیک یہاں ’’ضُحٰی‘‘ سے پورا دن مراد ہے۔( تفسیر بغوی، الضّحی، تحت الآیۃ: ۱، ۴/۴۶۵، مدارک، الضّحی، تحت الآیۃ: ۱، ص۱۳۵۶، ملتقطاً)
چاشت کی نماز کے3 فضائل:
اس آیت میں چاشت کا ذکر ہے اس مناسبت سے یہاں چاشت کی نماز کے3 فضائل ملاحظہ ہوں ۔
(1)…حضرت ابو ذر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’آدمی پر اس کے ہر جوڑ کے بدلے صدقہ ہے (اور کل تین سو ساٹھ جوڑ ہیں ) ہر تسبیح صدقہ ہے اور ہر حمد صدقہ ہے اور لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہ کہنا صدقہ ہے اور اَللّٰہُ اَکْبَرْ کہنا صدقہ ہے اور اچھی بات کا حکم کرنا صدقہ ہے اور بری بات سے منع کرنا صدقہ ہے اور ان سب کی طرف سے چاشت کی دو رکعتیں کفایت کرتی ہیں ۔( مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا، باب استحباب صلاۃ الضّحی... الخ، ص۳۶۳، الحدیث: ۸۴(۷۲۰))
(2)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جس نے چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھیں تو اللّٰہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں سونے کا محل بنائے گا۔( ترمذی، کتاب الوتر، باب ما جاء فی صلاۃ الضّحی، ۲/۱۷، الحدیث: ۴۷۲)
(3)…حضرت ابو درداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے چاشت کی دو رکعتیں پڑھیں وہ غافل لوگوں میں نہیں لکھا جائے گا اور جو چار رکعت پڑھے گا وہ عبادت گزار لوگوں میں لکھا جائے گا اور جو چھ رکعت پڑھے گااس دن (اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے) اُس کی کفایت کی جائے گی اور جو آٹھ رکعت پڑھے تواللّٰہ تعالیٰ اسے فرمانبردار لوگوں میں لکھے گا اور جو بارہ رکعت پڑھے گااللّٰہ تعالیٰ اُس کے لیے جنت میں ایک محل بنائے گا اور کوئی دن یا رات ایسا نہیں جس میں اللّٰہ تعالیٰ بندوں پر احسان اور صدقہ نہ کرے اور اس بندے سے بڑھ کر کسی پر (اللّٰہ تعالیٰ نے) احسان نہ کیا جسے اپنا ذکر اِلہام کیا۔( الترغیب والترہیب، کتاب النوافل، الترغیب فی صلاۃ الضّحی، ۱/۳۱۸، الحدیث: ۱۰۱۱)
چاشت کی نمازسے متعلق دو شرعی مسائل:
یہاں چاشت کی نماز سے متعلق دو شرعی مسائل بھی ملاحظہ ہوں ،