Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
720 - 881
کرنے کا حکم دیاگیاہے۔
سورۂ لَیل کے ساتھ مناسبت:
	سورۂ وَالضُّحٰىکی اپنے سے ما قبل سورت ’’لَیل‘‘کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ لَیل میں  اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر کفار کی طرف سے ہونے والے اعتراضات کا جواب دیا اور اس سورت میں  اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ پر کفار کی طرف سے ہونے والے اعتراضات کا جواب دیا ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
وَ الضُّحٰىۙ(۱) وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰىۙ(۲)
ترجمۂکنزالایمان: چاشت کی قسم ۔اور رات کی جب پردہ ڈالے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:  چڑھتے دن کے وقت کی قسم۔اور رات کی جب وہ ڈھانپ دے۔
{وَالضُّحٰى: چڑھتے دن کے وقت کی قسم۔} اس سورت کاشانِ نزول یہ ہے کہ ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ چند روز وحی نہ آئی تو کفار نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ محمد (مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ) کو اُن کے رب عَزَّوَجَلَّ نے چھوڑ دیا اورناپسند جانا ہے، اس پر سورۂ وَالضُّحٰی نازل ہوئی۔
	 بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت میں  ’’ضُحٰی‘‘ سے وہ وقت مراد ہے جس وقت سورج بلند ہوتا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ نے اس وقت کی قَسم اس لئے ارشاد فرمائی کہ یہ وقت وہی ہے جس میں  اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ