(1)… چاشت کی نمازمُستحب ہے اورا س کی کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعتیں ہیں ۔
(2)…اس کا وقت سورج بلند ہونے سے زوال یعنی نصفُ النّہار شرعی تک ہے اور بہتر یہ ہے کہ چوتھائی دن چڑھے پڑھے۔ (بہار شریعت، حصہ چہارم، ۱/۶۷۵-۶۷۶)
{وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰى: اور رات کی جب وہ ڈھانپ دے۔} یعنی رات کی قسم جب وہ اپنی تاریکی سے ہرچیز کوڈھانپ دے۔ امام جعفر صادق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ چاشت سے مراد وہ چاشت ہے جس میں اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کلام فرمایا اور رات سے معراج کی رات مراد ہے اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ چاشت سے جمالِ مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے نور کی طرف اشارہ ہے اور رات سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے عنبرین گیسو کی طرف اشارہ ہے۔ (روح البیان، الضّحی، تحت الآیۃ: ۲، ۱۰/۴۵۳) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :
ہے کلامِ الٰہی میں شمس وضُحٰے ترے چہرئہ نور فزا کی قسم قسمِ شبِ تار میں راز یہ تھا کہ حبیب کی زلفِ دوتا کی قسم
مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ(۳)
ترجمۂکنزالایمان: کہ تمہیں تمہارے رب نے نہ چھوڑا اور نہ مکروہ جانا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تمہارے رب نے نہ تمہیں چھوڑا اور نہ ناپسند کیا۔
{مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى: تمہارے رب نے نہ تمہیں چھوڑا اور نہ ناپسند کیا۔} اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’(کفار کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے) حق جَلَّ وَعَلا نے فرمایا: ’’وَ الضُّحٰىۙ(۱)وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰى‘‘ قسم ہے دن چڑھے کی ،اور قسم رات کی جب اندھیری ڈالے، یاقسم اے محبوب! تیرے روئے روشن کی، اور قسم تیری زلف کی جب چمکتے رخساروں پر بکھر آئے ’’ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى ‘‘ نہ تجھے تیرے رب نے چھوڑا اورنہ دشمن بنایا ۔‘‘اوریہ اَشقیاء (بدبخت) بھی دل میں خوب سمجھتے ہیں کہ خدا کی تجھ پر کیسی مِہر (یعنی رحمت) ہے، اس مِہر