سورۂ وَ الضُّحـٰی
سورۂ وَ الضُّحٰىکا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ وَ الضُّحٰىمکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔
رکوع اور آیات کی تعداد:
اس سورت میں 1رکوع ،11 آیتیں ہیں ۔
’’ وَ الضُّحٰى‘‘ نام رکھنے کی وجہ :
چاشت کے وقت کو عربی میں ’’ضُحٰی‘‘ کہتے ہیں اور اس سورت کی پہلی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے چاشت کے وقت کی قسم ارشاد فرمائی اس مناسبت سے اسے ’’سورئہ وَ الضُّحٰى‘‘ کہتے ہیں ۔
سورۂ وَ الضُّحٰىکے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی شخصیت کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اور اس میں یہ مضامین بیان ہوئے ہیں
(1)…اس سورت کی ابتداء میں اللّٰہ تعالیٰ نے چڑھتے دن اور رات کی قَسم ذکر کر کے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ پر کئے گئے کفار کے اعتراض کا جواب دیا۔
(2)…نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے فرمایا گیا کہ آپ کے لئے ہر پچھلی گھڑی پہلی سے بہتر ہے اور اللّٰہ تعالیٰ آپ کو اتنا دے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے۔
(3)…حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے بچپن میں اللّٰہ تعالیٰ نے ان پر جو انعامات فرمائے وہ بیان کئے گئے۔
(4)…اس سورت کے آخر میں یتیم پر سختی کرنے اورسائل کو جھڑکنے سے منع کیاگیا اور اللّٰہ تعالیٰ کی نعمت کا خوب چرچا