ترجمۂکنزُالعِرفان: تو میں تمہیں اس آگ سے ڈرا چکا جو بھڑک رہی ہے۔اس میں بڑا بدبخت ہی داخل ہوگا۔ جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا۔
{فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰى: تو میں تمہیں اس آگ سے ڈرا چکا جو بھڑک رہی ہے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے اہلِ مکہ ! میں تمہیں اِس قرآن کے ذریعے اُس آگ سے ڈراتا ہوں جو بھڑک رہی ہے، اس میں بڑا بدبخت ہی ہمیشہ کے لئے لازمی طور پر داخل ہوگا اور بڑا بد بخت وہ ہے جس نے میرے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کوجھٹلایا اور ان پر ایمان لانے سے اس نے منہ پھیرا۔ (روح البیان، اللّیل، تحت الآیۃ: ۱۴-۱۶، ۱۰/۴۵۰، مدارک، اللّیل، تحت الآیۃ: ۱۴-۱۶، ص۱۳۵۵، جلالین، اللّیل، تحت الآیۃ: ۱۴-۱۶، ص۵۰۱، ملتقطاً)
وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ(۱۷) الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَكّٰىۚ(۱۸)
ترجمۂکنزالایمان: اور بہت جلداس سے دُور رکھا جائے گا جو سب سے بڑاپرہیزگار ۔جو اپنا مال دیتا ہے کہ ستھرا ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور عنقریب سب سے بڑے پرہیزگارکو اس آگ سے دور رکھا جائے گا۔جو اپنا مال دیتا ہے تاکہ اسے پاکیزگی ملے۔
{وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَى: اور عنقریب سب سے بڑے پرہیزگارکو اس آگ سے دور رکھا جائے گا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اور سب سے بڑے پرہیزگارکو اس بھڑکتی آگ سے دور رکھا جائے گا اور سب سے بڑا پرہیز گار وہ ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا مال ریا کاری اور نمائش کے طور پر خرچ نہیں کرتا بلکہ اس لئے خرچ ہے تاکہ اسے اللّٰہ تعالیٰ کی بار گاہ میں پاکیزگی ملے ۔( مدارک، اللّیل، تحت الآیۃ: ۱۷-۱۸، ص۱۳۵۵)
حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے فضائل:
امام علی بن محمد خازن رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’تما م مفسرین کے نزدیک اس آیت میں سب سے بڑے