حضرت عکاشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یا رسول اللّٰہ! آپ دعا فرما دیں کہ اللّٰہ تعالیٰ مجھے بے حساب جنت میں جانے والوں میں شامل کر دے۔تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرما دیا کہ اے عکاشہ!تو انہی میں سے ہے۔( مسلم،کتاب الایمان،باب الدلیل علی دخول طوائف من المسلمین الجنۃ...الخ، ص۱۳۷، الحدیث: ۳۷۴(۲۲۰))
اور صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا آخرت کی بھلائی طلب کرنا تو اپنی جگہ،جب کھجور کے ایک تنے سے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے فرمایا کہ اگر تو چاہے تو میں تجھے اس باغ میں لوٹا دوں جہاں تُو تھا اور اگر تُو چاہے تو میں تجھے جنت میں بو دوں تاکہ جنت میں تیرے پھل اللّٰہ تعالیٰ کے اولیاء کھائیں اور اس نے عرض کی کہ :مجھے جنت میں لگا دیں تو نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے فرمایا ’’میں نے ایساکر دیا (یعنی تجھے جنت میں لگا دیا)۔( سنن دارمی، المقدمۃ، باب ما اکرم اللّٰہ النّبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بحنین المنبر، ۱/۲۹، الحدیث: ۳۲)
غزوۂ خیبر کے موقع پر جب حضرت سلمہ بن اکوع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی پنڈلی پر چوٹ لگ گئی اور وہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو گئے تو رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ان کی پنڈلی کو درست کر دیا۔( بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ خیبر، ۳/۸۳، الحدیث: ۴۲۰۶)
اور مدینہ منورہ میں رہنے والوں نے ایک بارحضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے قحط کے بارے میں عرض کی تو انہوں نے رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے روضۂ انور کی چھت میں روشَندان بنانے کا حکم دیا اور جب روشندان بنایا گیا تو ا س قدر بارش برسی کہ گھاس اُگ آئی اور اونٹ موٹے تازے ہو گئے۔( سنن دارمی، المقدمۃ، باب ما اکرم اللّٰہ تعالی نبیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بعد موتہ، ۱/۵۶، الحدیث: ۹۲)
فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰىۚ(۱۴) لَا یَصْلٰىهَاۤ اِلَّا الْاَشْقَىۙ(۱۵) الَّذِیْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ(۱۶)
ترجمۂکنزالایمان: تو میں تمہیں ڈراتا ہوں اُس آگ سے جو بھڑک رہی ہے ۔نہ جائے گا اس میں مگر بڑا بدبخت۔ جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا ۔