Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
713 - 881
بلکہ دنیا اور آخرت دونوں  کی بہتری کے لئے دعا مانگنی چاہئے،جیساکہ ایک مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ(۲۰۰) وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ(۲۰۱) اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْاؕ-وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ‘‘(بقرہ:۲۰۰۔۲۰۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کوئی آدمی یوں  کہتا ہے کہ اے ہمارے رب! ہمیں  دنیا میں  دیدے اور آخرت میں  اس کا کچھ حصہ نہیں ۔اور کوئی یوں  کہتا ہے کہ اے ہمارے رب! ہمیں  دنیا میں  بھلائی عطا فرما اور ہمیں  آخرت میں  (بھی) بھلائی عطا فرما اور ہمیں  دوزخ کے عذاب سے بچا۔ان لوگوں  کے لئے ان کے کمائے ہوئے اعمال سے حصہ ہے اور اللّٰہ جلد حساب کرنے والا ہے۔
	اور حضرتِ انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  کہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ اکثر یہ دعا فرمایا کرتے تھے’’رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ‘‘ اے ہمارے رب! ہمیں  دنیا میں  بھلائی عطا فرما اور ہمیں  آخرت میں  (بھی) بھلائی عطا فرما اور ہمیں  دوزخ کے عذاب سے بچا۔( بخاری، کتاب الدّعوات، باب قول النّبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ربّنا اتنا فی الدّنیاحسنۃ، ۴/۲۱۴، الحدیث: ۶۳۸۹)
اللّٰہ تعالیٰ کے نیک بندوں  سے دین و دنیا کی بھلائیاں  طلب کرنا جائز ہے:
	 نیز یہ بھی یاد رہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ سے دین اور دنیا کی بھلائیاں  طلب کرنا بھی جائز ہے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کے یہ نیک بندے اللّٰہ تعالیٰ کی عطا سے دین اور دنیا کی بھلائیاں  دے سکتے ہیں  اور یہاں  ہم صرف صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی سیرت میں  موجود اس کی بے شمار مثالوں  میں  سے چند مثالیں  اِختصار کے ساتھ ذکر کرتے ہیں  تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور سے دین یا دنیا کی بھلائیاں  طلب کرنا شرک ہر گز نہیں  بلکہ یہ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا طریقہ رہا ہے۔چنانچہ 
	جب حضرت ربیعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے جنت میں  ان کی رفاقت مانگی تو رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے انہیں  جنت میں  اپنی رفاقت عطا کردی۔( مسلم، کتاب الصلاۃ، باب فضل السجود والحثّ علیہ، ص۲۵۲، الحدیث: ۲۲۶(۴۸۹))