تعالیٰ کے عذاب سے بچانے میں اسے کچھ کام نہ آئے گا۔ (روح البیان، اللّیل، تحت الآیۃ: ۱۱، ۱۰/۴۴۹، مدارک، اللّیل، تحت الآیۃ: ۱۱، ص۱۳۵۴، ملتقطاً)
{اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰى: بیشک ہدایت فرمانا ہمارے ہی ذمہ ہے۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ حق اور باطل کی راہوں کو واضح کردینا ، حق پر دلائل قائم کرنا اور احکام بیان فرمانا ہمارے ذمۂ کرم پرہے۔( خازن، واللّیل، تحت الآیۃ: ۱۲، ۴/۳۸۴، مدارک، اللّیل، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۱۳۵۴، ملتقطاً)
دوسرا معنی یہ ہے کہ جو ہم سے ہدایت طلب کرے اور ہدایت طلب کرنے میں کوشش کرے تو اسے ہدایت دینا ہمارے ذمۂ کرم پر ہے۔جیسا کہ ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
’’وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا‘‘(عنکبوت:۶۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوششکی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے۔( تاویلات اہل السنہ، اللّیل، تحت الآیۃ: ۱۲، ۵/۴۷۱)
{وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى: اور بیشک آخرت اور دنیا دونوں کے ہم ہی مالک ہیں ۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ بے شک تم یہ بات جانتے ہو کہ آخرت اور دنیا دونوں کے ہم ہی مالک ہیں اور پتھروں اور دیگر چیزوں سے بنے ہوئے جن بتوں کی تم پوجا کرتے ہو وہ نہ آخرت کے مالک ہیں نہ دنیا کے مالک ہیں تو تم آخرت اور دنیا کے مالک کی عبادت چھوڑ کر اُن بتوں کی عبادت کیسے کرنے لگ گئے جو آخرت اور دنیامیں سے کسی چیز کے مالک نہیں حالانکہ تمہیں یہ بات معلوم بھی ہے۔( تاویلات اہل السنہ، اللّیل، تحت الآیۃ: ۱۳، ۵/۴۷۱)
دوسری تفسیر یہ ہے کہ بیشک آخرت اور دنیا دونوں کے ہم ہی مالک ہیں اور ہم ان میں سے جو چیز جسے چاہیں عطا کریں لہٰذا دنیا اور آخرت کی سعادتیں ہم سے ہی طلب کی جائیں ۔ (تفسیرکبیر، اللّیل، تحت الآیۃ: ۱۳، ۱۱/۱۸۶)
دنیا اور آخرت دونوں کی بہتری کے لئے دعا مانگنی چاہئے:
یاد رہے کہ اللّٰہ تعالیٰ سے صرف دنیا کی بہتری کے لئے یا صرف آخرت کی بہتری کے لئے دعا نہیں مانگنی چاہئے