مِنْهُۚ-وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ‘‘(ال عمران:۸۵)
دین چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
اور ارشاد فرمایا: ’’وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ یُدْعٰۤى اِلَى الْاِسْلَامِؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘(صف:۷)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللّٰہپر جھوٹ باندھے حالانکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جاتا ہو اور اللّٰہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنی راہ میں مال خرچ کرنے میں بخل کرنے سے بچنے ،اپنی آخرت کی پرواہ اور فکر کرنے اور دینِ اسلام کو مانتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
وَ مَا یُغْنِیْ عَنْهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰىؕ(۱۱) اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰى٘ۖ(۱۲) وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى(۱۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور اس کا مال اُسے کام نہ آئے گا جب ہلاکت میں پڑے گا ۔بیشک ہدایت فرمانا ہمارے ذمہ ہے۔ اور بیشک آخرت اور دنیا دونوں کے ہمیں مالک ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب وہ ہلاکت میں پڑے گاتواس کا مال اسے کام نہ آئے گا۔بیشک ہدایت فرمانا ہمارے ہی ذمہ ہے۔اور بیشک آخرت اور دنیا دونوں کے ہم ہی مالک ہیں ۔
{وَ مَا یُغْنِیْ عَنْهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰى: اور جب ہلاکت میں پڑے گاتواس کا مال اسے کام نہ آئے گا۔} یعنی جو شخص اللّٰہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے بخل کر رہا ہے وہ جب مر کر قبر میں جائے گایا جہنم کی گہرائی میں پہنچے گا تواس کا مال اللّٰہ