’’وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْؕ-سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ‘‘(اٰل عمران:۱۸۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو لوگ اس چیز میں بخل کرتے ہیں جو اللّٰہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہے وہ ہرگز اسےاپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ یہ بخل ان کے لئے برا ہے۔ عنقریب قیامت کے دن ان کے گلوں میں اسی مال کا طوق بنا کر ڈالا جائے گا جس میں انہوں نے بخل کیا تھا اور اللّٰہ ہی آسمانوں اور زمین کاوارث ہے اور اللّٰہ تمہارے تمام کاموں سے خبردار ہے۔
اور اللّٰہ تعالیٰ کے ثواب اور آخرت سے بے پرواہ بننے والے کے بارے میں ارشاد فرمایا:
’’كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤىۙ(۶) اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰىؕ(۷) اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰى‘‘(العلق:۶۔۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہاں ہاں ، بیشک آدمی ضرور سرکشی کرتا ہے۔ اس بنا پر کہ اپنے آپ کو غنی سمجھ لیا۔بیشک تیرے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے۔
اور ارشاد فرمایا: ’’مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ(۱۵)اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ ﳲ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ‘‘(ہود:۱۵،۱۶)
ترجمۂکنزُالعِرفان: جو دنیا کی زندگی اوراس کی زینت چاہتا ہو توہم دنیا میں انہیں ان کے اعمال کا پورا بدلہ دیں گے اورانہیں دنیا میں کچھ کم نہ دیا جائے گا۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں اور دنیا میں جو کچھ انہوں نے کیا وہ سب برباد ہوگیا اور ان کے اعمال باطل ہیں ۔
اور دین ِاسلام کے حوالے سے ارشاد فرمایا: ’’وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو کوئی اسلام کے علاوہ کوئی اور