اور ارشاد فرمایا: ’’وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ(۵۴) وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ‘‘(زمر:۵۴،۵۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اپنے رب کی طرف رجوع کرواور اس وقت سے پہلے اس کے حضور گردن رکھو کہ تم پر عذاب آئے پھر تمہاری مدد نہ کی جائے۔ اورتمہارے رب کی طرف سے جو بہترین چیزتمہاری طرف نازل کی گئی ہے اس کی اس وقت سے پہلے پیروی اختیار کرلو کہ تم پر اچانک عذا ب آجائے اور تمہیں خبر (بھی) نہ ہو۔
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنی راہ میں مال خرچ کرنے ،حرام و ناجائز اور ممنوع کاموں سے بچنے کی اور دین ِاسلام پر اِستقامت کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
بخل کرنے ،آخرت سے بے پرواہ بننے اور دینِ اسلام کو جھٹلانے کی وعیدیں :
آیت نمبر8اور 9 میں اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے میں بخل کرنے والے،ثواب اور آخرت سے بے پرواہ بننے والے اور دینِ اسلام کو جھٹلانے والے کے بارے میں وعید بیان کی گئی ہے۔اس مناسبت سے یہاں ان برے کاموں سے متعلق چند وعیدیں ملاحظہ ہوں ،چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے بخل کرنے والوں کے بارے میں ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۚ-فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُۚ-وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖؕ-وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُۚ-وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْۙ-ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ‘‘(سورۃ محمد:۳۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہاں ہاں یہ تم ہو جو بلائے جاتے ہو تاکہ تم اللّٰہ کی راہ میں خرچ کرو تو تم میں کوئی بخل کرتا ہے اور جو بخل کرے وہ اپنی ہی جان سے بخل کرتا ہے اور اللّٰہ بے نیاز ہے اور تم سب محتاج ہو اور اگر تم منہ پھیرو گے تو وہ تمہارے سوا اور لوگ بدل دے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔
اور ارشاد فرمایا: