اور ارشاد فرماتا ہے: ’’اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ٘-اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ‘‘(ص:۲۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا ہم ایمان لانے والوں اور اچھے اعمال کرنے والوں کو زمین میں فساد پھیلانے والوں کی طرحکردیں گے؟ یا ہم پرہیزگاروں کو نافرمانوں جیسا کردیں گے؟
راہِ خدا میں مال خرچ کرنے ،حرام کاموں سے بچنے اور دین ِاسلام کو سچا ماننے کے فضائل:
آیت نمبر5اور 6 میں تین نیک کاموں کا بطورِ خاص ذکر فرمایا گیا، (1)اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنا، (2)ممنوع و حرام کاموں سے بچنا ، (3) دین ِاسلام کو سچا ماننا۔اس مناسبت سے یہاں ان نیک کاموں کے فضائل ملاحظہ ہوں ،چنانچہ راہِ خدا میں خرچ کرنے کے حوالے سے ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍؕ-وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ‘‘(بقرہ:۲۶۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان: ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللّٰہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس دانے کی طرح ہے جس نے سات بالیاں اگائیں ،ہر بالی میں سو دانے ہیں اور اللّٰہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے اور اللّٰہ وسعت والا، علم والا ہے۔
اور ممنوع و حرام کاموں سے بچنے کے بارے میں ارشاد فرمایا: ’’اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآىٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا‘‘(النساء:۳۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اگر کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے دوسرے گناہ بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے۔
اور ارشاد فرمایا: ’’وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِۙ-لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللّٰہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ،تا کہ برائی کرنے والوں کو ان