(1)… حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ برحق مومن، صحابی اور بڑے متقی ہیں کہ انہیں اللّٰہ تعالیٰ نے کفار سے مختلف قرار دیا۔
(2)… تمام انسان یکساں نہیں ہیں بلکہ مومن اور کافر، متقی اور فاسق، دنیادار اور دیندار مختلف ہیں ، ان کے اعمال اور ان کی کوششیں جدا گانہ ہیں ۔اسی چیز کو بیان کرتے ہوئے ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِؕ-اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ‘‘(حشر:۲۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان: دوزخ والے اور جنت والے برابر نہیں ، جنت والے ہی کامیاب ہیں ۔
اورارشاد فرماتا ہے: ’’اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا ﳳ-لَا یَسْتَوٗنَؐ(۱۸) اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى٘-نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۹) وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُؕ-كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ (سجدہ:۱۸۔۲۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو کیا جو ایمان والا ہے وہ اس جیسا ہوجائے گا جونافرمان ہے؟ یہ برابر نہیں ہیں ۔بہرحال جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے توان کے لیے ان کے اعمال کے بدلے میں مہمانی کے طور پر رہنے کے باغات ہیں ۔ اور وہ جو نافرمان ہوئے توان کا ٹھکانا آ گ ہے، جب کبھی اس میں سے نکلنا چاہیں گے تو پھر اسی میں پھیر دیئے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا: اس آگ کا عذاب چکھو جسے تم جھٹلاتے تھے۔
اور ارشاد فرماتا ہے: ’’اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِۙ-سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْؕ-سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ‘‘(جاثیہ:۲۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان:کیا جن لوگوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں ان جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اورجنہوں نے اچھے کام کئے (کیا) ان کی زندگی اور موت برابر ہوگی؟ وہ کیا ہی برا حکم لگاتے ہیں ۔