Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
705 - 881
اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اُمیہ سے فرمایا’’ اے بدنصیب! توایک خدا پرست پر ایسی سختیاں  کر رہا ہے۔ اُس نے کہا: آپ کو اس کی تکلیف ناگوار ہے تو اسے خرید لیجئے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مہنگی قیمت پر اُن کو خرید کر آزاد کردیا۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی اور اللّٰہ تعالیٰ نے رات ،دن اور اپنی ذات کی قسم ذکر فرما کر ارشاد فرمایا کہ تمہاری کوششیں  مختلف ہیں یعنی حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی کوشش اور اُمیہ کی کوشش مختلف ہے اور حضرت ابو بکرصدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے طالب ہیں  اورامیہ حق کی دشمنی میں  اندھا ہے۔ (تفسیر بغوی ، اللّیل ، تحت الآیۃ: ۴ ، ۴/۴۶۲، روح البیان ، اللّیل، تحت الآیۃ: ۲۰، ۱۰/۴۵۱، خزائن العرفان، اللّیل، تحت الآیۃ: ۱۰، ص۱۱۰۷)
	 امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں :امام قفال رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  کہ یہ سورت اگرچہ حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مسلمانوں  پر اپنا مال خرچ کرنے اور امیہ بن خلف کے بخل اور اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے کے بارے میں  نازل ہوئی ہے البتہ اس کے معانی تمام لوگوں  کو عام ہیں ۔ (تفسیرکبیر، تفسیر سورۃ اللّیل، ۱۱/۱۸۱) چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی6آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ بیشک تمہارے اعمال جداگانہ ہیں  کہ کوئی اطاعت کر کے جنت کے لئے عمل کرتا ہے اور کوئی نافرمانی کرکے جہنم کے لئے عمل کرتا ہے تو وہ شخص جس نے اپنا مال راہِ خدا میں  دیا اور اللّٰہ تعالیٰ کے حق کو ادا کیا اور ممنوع و حرام چیزوں  سے بچ کر پرہیزگاربنا اور سب سے اچھی اسلا م کی راہ کو سچا مانا تو بہت جلد ہم اسے جنت کے لئے آسانی مہیا کردیں  گے اور اسے ایسی خصلت کی توفیق دیں  گے جو اس کے لئے آسانی اور راحت کا سبب ہو اور وہ ایسے عمل کرے جن سے اس کا رب عَزَّوَجَلَّ راضی ہو، اور وہ شخص جس نے بخل کیا اور اپنا مال نیک کاموں  میں  خرچ نہ کیا اور اللّٰہ تعالیٰ کے حق ادا نہ کئے اور ثواب اور آخرت کی نعمت سے بے پرواہ بنا اور سب سے اچھی اسلام کی راہ کو جھٹلایا تو بہت جلدہم اسے ایسی خصلت مہیا کردیں  گے جو اس کے لئے دشواری اور شدت کا سبب ہو اور اسے جہنم میں  پہنچادے۔( جلالین، واللّیل،تحت الآیۃ:۴-۱۰،ص۵۰۱، خازن، واللّیل، تحت الآیۃ: ۴-۱۰، ۴/۳۸۳، مدارک، اللّیل، تحت الآیۃ: ۴-۱۰، ص۱۳۵۴، ملتقطاً)
آیت ’’اِنَّ سَعْیَكُمْ لَشَتّٰى‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
	اس آیت سے دو باتیں  معلوم ہوئیں ،