Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
704 - 881
تَسْكُنُوْنَ فِیْهِؕ-اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ‘‘(قصص:۷۱،۷۲)
لے آئے جس میں  تم آرام کرو تو کیا تم دیکھتے نہیں ؟
{وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰۤى: اور مُذّکر اور مُؤنّث کو پیدا کرنے والے کی۔} یعنی اس عظیم قدرت والے قادر کی قسم! جو ایک ہی پانی سے مذکر اور مؤنث پیدا کرنے پر قادر ہے۔ (خازن، واللّیل، تحت الآیۃ: ۳، ۴/۳۸۳)
اِنَّ سَعْیَكُمْ لَشَتّٰىؕ(۴) فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ(۵) وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰىۙ(۶) فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْیُسْرٰىؕ(۷) وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰىۙ(۸) وَ كَذَّبَ بِالْحُسْنٰىۙ(۹)فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰىؕ(۱۰)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک تمہاری کوشش مختلف ہے ۔تو وہ جس نے دیا اور پرہیزگاری کی ۔اور سب سے اچھی کو سچ مانا۔ تو بہت جلد ہم اُسے آسانی مہیا کردیں  گے ۔اور وہ جس نے بخل کیا اور بے پرواہ بنا ۔اور سب سے اچھی کو جھٹلایا ۔تو بہت جلد ہم اسے دشواری مہیا کردیں  گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک تمہاری کوشش ضرور مختلف قسم کی ہے۔ تو بہر حال وہ جس نے دیا اور پرہیزگار بنا۔ اور سب سے اچھی راہ کو سچا مانا۔تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیا کردیں  گے ۔اور رہا وہ جس نے بخل کیا اور بے پروا بنا۔اور سب سے اچھی راہ کو جھٹلایا۔تو بہت جلد ہم اسے دشواری مہیا کردیں  گے۔
{اِنَّ سَعْیَكُمْ لَشَتّٰى: بیشک تمہاری کوشش ضرور مختلف قسم کی ہے۔} شانِ نزول : اُمیہ بن خلف حضرت بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو جو کہ اس کی غلامی میں  تھے ،دین سے مُنْحَرِ ف کرنے کے لئے طرح طرح کی تکلیفیں  دیتا اور انتہائی ظلم اور سختیاں  کرتا تھا۔ ایک دن حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیکھا کہ اُمیہ نے حضرت بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو گرم زمین پر ڈال کرتپتے ہوئے پتھر ان کے سینے پر رکھے ہیں  اور اس حال میں  بھی ایمان کا کلمہ اُن کی زبان پر جاری ہے تو آپ رَضِیَ