Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
703 - 881
وَ النَّهَارَ مُبْصِرًاؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ‘‘(یونس:۶۷)
بنائی تاکہ اس میں  سکون حاصل کرواور دن کو آنکھیں  کھولنے والا بنایا بیشک اس میں  سننے والوں  کے لیے نشانیاں  ہیں ۔
	اور ارشاد فرماتا ہے: ’’وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَ النَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَؕ-وَ كُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا‘‘(بنی اسرائیل: ۱۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں  بنایا پھر ہم نے رات کی نشانی کو مٹاہو اکیا اور دن کی نشانی کودیکھنے والی بنایا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور تا کہ تم سالوں  کی گنتی اور حساب جان لو اور ہم نے ہر چیز کوخوب جدا جدا تفصیل سے بیان کردیا۔
	اسی طرح رات کے بعد دن کا آنا اور دن کے بعد رات کا آنا بھی اللّٰہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے کیونکہ اگر قیامت تک ہمیشہ رات ہی رہے تو مخلوق کے لئے اپنی معاشی ضروریات پورا کرنا ممکن نہ رہے گا اور اگر قیامت تک ہمیشہ دن ہی رہے تو مخلوق کا چین ،سکون اور راحت ختم ہو جائے گی۔ عقلمند لوگ اس میں  بھی غور کر کے اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی وحدانیّت کے بارے میں  جان سکتے ہیں ۔چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ‘‘(النور:۴۴)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ رات اور دن کو تبدیل فرماتا ہے،بیشک اس میں  آنکھ والوں  کیلئے سمجھنے کا مقام ہے۔
	اور ارشاد فرماتا ہے: ’’قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍؕ-اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ(۷۱) قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: بھلا دیکھو کہ اگر اللّٰہ تم پر قیامت تک ہمیشہ رات ہی بنادے تو اللّٰہ کے سوا کون دوسرا معبود ہے جو تمہارے پاس روشنی لائے گا تو کیا تم سنتے نہیں ؟ تم فرماؤ: بھلا دیکھو کہ اگر اللّٰہ قیامت تک ہمیشہ دن ہی بنادے تو اللّٰہ کے سوا اورکون معبود ہے جو تمہارے پاس رات