Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
702 - 881
وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىۙ(۱) وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰىۙ(۲) وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰۤىۙ(۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور رات کی قسم جب چھائے ۔اور دن کی جب چمکے ۔اور اس کی جس نے نر و مادہ بنائے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: رات کی قسم جب وہ چھاجائے۔اور دن کی جب وہ روشن ہو۔ اور مذکر اور مؤنث کو پیدا کرنے والے کی۔
{وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰى: رات کی قسم جب وہ چھا جائے۔} ارشاد فرمایا کہ رات کی قَسم جب وہ جہان پر اپنی تاریکی سے چھاجائے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے رات کی قسم اس لئے ارشاد فرمائی کہ وہ ساری مخلوق کے سکون کاوقت ہے اور رات میں ہر جاندار اپنے ٹھکانے پر آتا ہے اور ا س میں  مخلوق حرکت وبے قراری سے پُرسکون ہوتی ہے اور ان پر نیند چھا جاتی ہے جسے اللّٰہ تعالیٰ نے ان کے بدنوں  کے لئے راحت اور ان کی اَرواح کے لئے غذا بنایا ہے اور اس وقت اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ کے مقبول بندے سچی نیاز مندی کے ساتھ مناجات میں  مشغول ہوتے ہیں ۔ (خازن، واللّیل، تحت الآیۃ: ۱، ۴/۳۸۳، تفسیرکبیر، اللّیل، تحت الآیۃ: ۱، ۱۱/۱۸۱، روح البیان، اللّیل، تحت الآیۃ: ۱، ۱۰/۴۴۷، ملتقطاً)
{وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى: اور دن کی جب وہ روشن ہو۔} ارشاد فرمایا کہ اور دن کی قسم جب وہ چمکے اور رات کے اندھیرے کو دور کردے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے دن کی قسم اس لئے ارشاد فرمائی کہ وہ رات کی تاریکی دور ہونے کا، سونے والوں  کے بیدار ہونے کا ، جانداروں  کے حرکت کرنے کا اور مَعاش کی طلب میں  مشغول ہونے کا وقت ہے ۔( مدارک، اللّیل، تحت الآیۃ: ۲، ص۱۳۵۴، تفسیرکبیر، اللّیل، تحت الآیۃ: ۲، ۱۱/۱۸۱، ملتقطاً)
رات اور دن، اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتیں  اور اس کی قدرت کی نشانیاں  ہیں :
	یاد رہے کہ رات اور دن اللّٰہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمتیں  اور ا س کی قدرت کی عظیم نشانیاں  ہیں ،چنانچہ ایک مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات