یہ ہے کہ جان کی اور اس کی قسم جس نے اسے ٹھیک بنایا اور اسے کثیرقوتیں عطا فرمائیں جیسے بولنے کی قوت،سننے کی قوت، دیکھنے کی قوت اور فکر، خیال ،علم ،فہم سب کچھ عطا فرمایا پھر اس کی نافرمانی اور اس کی پرہیزگاری کی سمجھ اس کے دل میں ڈالی اور اچھائی برائی،نیکی اور گناہ سے اسے باخبر کردیا اور نیک و بد کے بارے میں بتادیا۔( خازن، الشّمس، تحت الآیۃ: ۷-۸، ۴/۳۸۲)
نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی ایک دعا:
حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ جب رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ (تلاوت کرتے ہوئے) ان آیات ’’وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَاﭪ(۷) فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا‘‘ پر پہنچتے تو رک جاتے، پھر فرماتے ’’اَللّٰہُمَّ آتِ نَفْسِیْ تَقْوَاہَا وَزَکِّہَا اَنْتَ خَیْرٌ مَّنْ زَکَّاہَا اَنْتَ وَلِیُّہَا وَمَوْلَاہَا‘‘ یعنی اے اللّٰہ ! میرے نفس کو تقویٰ عطا فرما،اس کو پاکیزہ کر،تو سب سے بہتر پاک کرنے والا ہے ،تو ہی اس کا ولی اور مولیٰ ہے۔( معجم الکبیر،عمرو بن دینار عن ابن عباس،۱۱/۸۷،الحدیث:۱۱۱۹۱،روح البیان،الشّمس،تحت الآیۃ:۸،۱۰/۴۴۳)
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَاﭪ(۹) وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ(۱۰)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک مراد کو پہنچا جس نے اُسے ستھرا کیا ۔اور نامراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چھپایا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک جس نے نفس کو پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا ۔اور بیشک جس نے نفس کو گناہوں میں چھپا دیا وہ ناکام ہوگیا۔
{قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا: بیشک جس نے نفس کو پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا۔} اللّٰہ تعالیٰ نے اس سے پہلی آیات میں چند چیزوں کی قَسمیں ذکر کر کے ا س آیت اور اس کے بعد والی آیت میں فرمایا کہ بیشک جس نے اپنے نفس کو برائیوں سے پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا اور بیشک جس نے اپنے نفس کو گناہوں میں چھپادیا وہ ناکام ہوگیا۔( جلالین مع صاوی، الشّمس، تحت الآیۃ: ۹-۱۰، ۶/۲۳۷۰)
نفس کو برائیوں سے پاک کرنا کامیابی کا ذریعہ ہے:
اس سے معلوم ہوا کہ اپنے نفس کو برائیوں سے پاک کرنا کامیابی حاصل کرنے کا ذریعہ اور اپنے نفس کو گناہوں