میں چھپا دینا ناکامی کا سبب ہے اور نفس برائیوں سے اسی وقت پاک ہو سکتا ہے جب اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی اطاعت کی جائے اوراطاعت کرنے والوں کے بارے اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ‘‘(النور:۵۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو اللّٰہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللّٰہ سے ڈرے اوراس (کی نافرمانی) سے ڈرے تو یہی لوگ کامیاب ہیں ۔
اور ارشاد فرماتا ہے: ’’وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا‘‘(احزاب:۷۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو اللّٰہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی۔
لہٰذا جو شخص حقیقی کامیابی حاصل کرنا اور ناکامی سے بچنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی اطاعت کر کے اپنے نفس کو برائیوں سے پاک کرے ۔
كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَاۤﭪ(۱۱) اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَاﭪ(۱۲) فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ نَاقَةَ اللّٰهِ وَ سُقْیٰهَاؕ(۱۳) فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَاﭪ--فَدَمْدَمَ عَلَیْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَاﭪ(۱۴) وَ لَا یَخَافُ عُقْبٰهَا۠(۱۵)
ترجمۂکنزالایمان: ثمود نے اپنی سرکشی سے جھٹلایا ۔جبکہ اس کا سب سے بدبخت اٹھ کھڑا ہوا ۔تو ان سے اللّٰہ کے رسول نے فرمایا اللّٰہ کے ناقہ اور اس کی پینے کی باری سے بچو ۔تو انہوں نے اسے جھٹلایا پھر ناقہ کی کوچیں کاٹ دیں تو ان پر ان کے رب نے ان کے گناہ کے سبب تباہی ڈال کر وہ بستی برابر کردی۔اور اس کے پیچھا کرنے کا اُسے خوف نہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: قومِ ثمود نے اپنی سرکشی سے جھٹلایا۔جس وقت ان کا سب سے بڑابدبخت آدمی اٹھ کھڑا ہوا۔تو