Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
695 - 881
میں  اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی عظمت اور معبود ہونے میں  اپنی وحدانیّت کا اظہار کرنے کے لئے متعدد چیزوں  کی قسم ارشاد فرمائی ہے اور یہ چیزیں  ایسی ہیں  کہ ان کے ساتھ مخلوق کے عظیم مَنافع وابستہ ہیں  اور ان میں  غور و فکر کر کے ہر انسان اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی وحدانیّت کے بارے میں  جان سکتا ہے۔( خازن ، الشّمس ، تحت الآیۃ : ۱، ۴/۳۸۱، صاوی، الشّمس، تحت الآیۃ: ۱، ۶/۲۳۶۹، تفسیرکبیر، الشّمس، تحت الآیۃ: ۱، ۱۱/۱۷۳، ملتقطاً) 
{وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا: اور چاند کی جب وہ اس کے پیچھے آئے۔} یعنی چاند کی قسم جب وہ سورج غروب ہونے کے بعد نکل آئے ۔ 
وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَاﭪ(۳) وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىهَاﭪ(۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور دن کی جب اسے چمکائے۔اور رات کی جب اسے چھپائے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور دن کی جب وہ سورج کو چمکائے۔اور رات کی جب وہ سورج کو چھپادے۔
{وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا: اور دن کی جب وہ سورج کو چمکائے۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ دن کی قسم جب وہ سورج کو خوب واضح کر دے۔ کیونکہ دن سورج کے نور کا نام ہے تو جتنا دن زیادہ روشن ہوگا اتنا ہی سورج کا ظہور زیادہ ہوگا کیونکہ اثر کی قوت اور اس کا کمال اثر کرنے والے کی قوت اور کمال پر دلالت کرتاہے لہٰذا دن سورج کو ظاہر کر دیتا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ دن کی قسم جب دن دنیا کو یا زمین کو روشن کردے یا رات کی تاریکی کو دور کردے۔( تفسیرکبیر، الشّمس، تحت الآیۃ: ۳، ۱۱/۱۷۴-۱۷۵، خازن، الشّمس، تحت الآیۃ: ۳، ۴/۳۸۱، ملتقطاً)
{وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىهَا: اور رات کی جب وہ سورج کو چھپادے۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ رات کی قسم جب وہ سورج کو چھپادے اور آسمان کے کنارے ظلمت و تاریکی سے بھر جائیں ۔دوسرا معنی یہ ہے کہ رات کی قسم کہ جب رات دنیا کو چھپائے۔
	یہاں  تک جو چار چیزیں  بیان ہوئیں یہ سب در حقیقت سورج کے چار اوصاف ہیں  کیونکہ سورج کے وجود سے ہی دن ہوتا ہے اور روشنی خوب واضح ہو جاتی ہے اور سورج کے غروب ہونے سے ہی رات ہوتی ہے اور ا س کے