سہل بن سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جو شخص یتیم کی کفالت کرے وہ یتیم اسی گھر کا ہو یا غیر کا، میں اور وہ دونوں جنت میں اس طرح ہوں گے۔ حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے کلمہ کی انگلی اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کیا اور دونوں انگلیوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ کیا۔( بخاری ، کتاب الطلاق ، باب اللعان ، ۳/۴۹۷ ، الحدیث: ۵۳۰۴ ، مسلم، کتاب الزہد والرقائق، باب الاحسان الی الارملۃ والمسکین والیتیم، ص۱۵۹۲، الحدیث: ۴۲(۲۹۸۳))
اورحضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’مسلمانوں میں سب سے بہتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ احسان کیا جاتا ہو اور مسلمانوں میں سب سے برا وہ گھر ہے، جس میں یتیم ہو اور اس کے ساتھ براسلوک کیا جاتاہو۔( ابن ماجہ، کتاب الادب، باب حق الیتیم، ۴/۱۹۳، الحدیث: ۳۶۷۹)
اورحضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یتیم کو اپنے کھانے پینے میں شریک کرے، اللّٰہ تعالیٰ اس کے لیے ضرور جنت واجب کردے گا مگر جبکہ ایسا گناہ کیا ہو جس کی مغفرت نہ ہو ۔( مشکوۃ المصابیح، کتاب الآداب، باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق، الفصل الثانی، ۲/۲۱۴، الحدیث: ۴۹۷۵)
مسکین کی مدد کرنے اور ا سے کھانا کھلانے کے فضائل:
مسکین کی مدد کرنے اور ا س کو کھانا کھلانے کی بہت فضیلت ہے ،چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ یتیموں اور مسکینوں کی مدد کرنے والا جہاد میں سَعی کرنے والے اور بے تھکے مسلسل شب بیداری کرنے والے اور ہمیشہ روزہ رکھنے والے کی مثل ہے۔( مسلم، کتاب الزہد والرقائق، باب الاحسان الی الارملۃ والمسکین والیتیم، ص۱۵۹۲، الحدیث: ۴۱(۲۹۸۲))
اور حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ایک لقمہ روٹی اور ایک مُٹھی خرما اور اس کی مثل کوئی اور چیز جس سے مسکین کو نفع پہنچے۔ اُن کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ تین شخصوں کو جنت میں داخل فرماتا ہے۔ (1)صاحب ِخانہ کوجس نے حکم دیا۔ (2)بیوی کو جو کہ اسے تیار کرتی ہے۔ (3)خادم کو جو کہ مسکین کو دے کر آتا ہے، پھر حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے فرمایا: حمد ہے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ