Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
687 - 881
ذَا مَتْرَبَةٍؕ(۱۶)
ترجمۂکنزالایمان: پھر بے تأمُّل گھاٹی میں  نہ کودا۔اور تو نے کیا جانا وہ گھاٹی کیا ہے۔کسی بندے کی گردن چھڑانا۔ یا بھوک کے دن کھانا دینا۔رشتہ دار یتیم کو۔یا خاک نشین مسکین کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر بغیر سوچے سمجھے کیوں  نہ گھاٹی میں  کود پڑا ۔اور تجھے کیا معلوم کہ وہ گھاٹی کیا ہے؟۔کسی بندے کی گردن چھڑانا۔یا بھوک کے دن میں کھانا دینا۔رشتہ دار یتیم کو۔یا خاک نشین مسکین کو۔
{فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ٘: پھر بغیر سوچے سمجھے کیوں  نہ گھاٹی میں  کود پڑا۔} یعنی جب اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتیں  ظاہر اوروافر ہیں  تو ا س پر لازم تھا کہ وہ ان نعمتوں  کا شکر ادا کرے لیکن ا س نے نیک اعمال کر کے ان جلیل اور عظیم نعمتوں  کا شکر ادا نہ کیا۔ یہاں  نیک اعمال کرنے کو گھاٹی میں  کودنے سے ا س مناسبت کی وجہ سے تعبیر کیا گیا کہ جس طرح گھاٹی میں  چلنا اس پر دشوار ہے اسی طرح نیکیوں  کے راستے پر چلنا نفس پر دشوار ہے۔( ابوسعود، البلد، تحت الآیۃ: ۱۱، ۵/۸۷۴، ملتقطاً)
{وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُ: اور تجھے کیا معلوم کہ وہ گھاٹی کیا ہے؟} اس آیت اور اس کے بعد والی 4آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اور تجھے کیا معلوم کہ وہ گھاٹی کیا ہے اور اس میں  کودنا کیا ہے،وہ گھاٹی اور ا س میں  کودنا یہ ہے(1) کسی بندے کی گردن غلامی سے چھڑانا۔ یہ عمل خواہ اس طرح ہو کہ کسی غلام کو آزاد کردے یا اس طرح ہو کہ مُکاتَب غلام کو اتنا مال دیدے جس سے وہ آزادی حاصل کرسکے یا کسی غلام کو آزاد کرانے میں  مدد کرے یا کسی قیدی یا قرض دار کو رہا کرانے میں  ان کی مدد کرے ۔نیزاس کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں  کہ نیک اعمال اختیار کرکے اپنی گردن آخرت کے عذاب سے چھڑائے۔(2)قحط اور تنگی کے دن رشتہ دار یتیم کو یا خاک نشین مسکین کو کھانا دیناجو کہ انتہائی تنگ دست اور مصیبت زدہ ہو، نہ اس کے پاس اوڑھنے کے لئے کچھ ہو اور نہ بچھانے کے لئے کچھ ہو، کیونکہ قحط کے دنوں  میں  مال نکالنا نفس پر بہت شاق اور اجر ِعظیم ملنے کاسبب ہوتا ہے۔(روح البیان،البلد،تحت الآیۃ:۱۲-۱۶،۱۰/۴۳۷-۴۳۸، خازن،البلد،تحت الآیۃ:۱۲-۱۶،۴/۳۸۰-۳۸۱،ملتقطاً)