Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
686 - 881
’’جب انسان صبح کرتا ہے تو سارے اَعضاء زبان کی خوشامد کرتے ہیں  اور اس سے کہتے ہیں  ’’ ہمارے بارے میں  اللّٰہ تعالیٰ سے ڈر کہ ہم تیرے ساتھ ہیں ، تو سیدھی رہے گی تو ہم سیدھے رہیں  گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگی تو ہم ٹیڑھے ہوں  گے۔( ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی حفظ اللسان، ۴/۱۸۳، الحدیث: ۲۴۱۵)
(3)… حضرت سفیان بن عبداللّٰہ ثقفی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ میں  نے عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جن چیزوں  کا آپ مجھ پر خو ف کرتے ہیں  ان میں  زیادہ خطرناک کیا چیز ہے؟تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا :یہ (یعنی تمہاری زبان سب سے زیادہ خطرناک ہے)۔( ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی حفظ اللسان، ۴/۱۸۴، الحدیث: ۲۴۱۸)
(4)… حضرت عبداللّٰہ بن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے ر وایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ جو خاموش رہا نجات پاگیا ۔( مسند امام احمد، مسند عبد اللّٰہ بن عمرو بن العاص رضی اللّٰہ عنہما، ۲/۵۵۱، الحدیث: ۶۴۹۱)
(5)… حضرت عمران بن حصین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’انسان کا خاموشی پر ثابت رہنا ساٹھ برس کی عبادت سے افضل ہے۔( مشکاۃ المصابیح، کتاب الآداب، باب حفظ اللسان والغیبۃ والشّتم، الفصل الثالث، ۲/۱۹۷، الحدیث: ۴۸۶۵)
	اللّٰہ تعالیٰ ہمیں  زبان جیسی عظیم نعمت کی اہمیت کو سمجھنے ،اس نعمت کے ملنے پر اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے ،فضول اور بیکار باتوں  اور ناجائز کلام سے اس کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
{وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِ: اورہم نے اسے دو راستے دکھائے۔} یہاں  آیت میں  ’’ نَجْدَیْن‘‘ کے بارے میں  مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ اس سے ماں  کی دونوں  چھاتیاں  مراد ہیں  اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے اچھا ئی اور برائی کے دو راستے مراد ہیں  جو جنت یا جہنم تک پہنچاتے ہیں ۔ (مدارک، البلد، تحت الآیۃ: ۱۰، ص۱۳۵۰)
فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ٘ۖ(۱۱) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُؕ(۱۲) فَكُّ رَقَبَةٍۙ(۱۳) اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍۙ(۱۴) یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍۙ(۱۵) اَوْ مِسْكِیْنًا