راہ نہ بتائی کہ پیدا ہونے کے بعد وہ اُن سے دودھ پیتا اور غذا حاصل کرتا رہا ۔( خازن ، البلد ، تحت الآیۃ: ۸-۱۰، ۴/۳۸۰، مدارک، البلد، تحت الآیۃ: ۸-۱۰، ص۱۳۵۰، جمل، البلد، تحت الآیۃ: ۸-۱۰، ۸/۳۲۵-۳۲۶، ملتقطاً)
زبان کی اہمیت اور اس کی حفاظت کی ترغیب:
اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو زبان عطا کی اور اس میں گفتگو کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کی اور اس نعمت کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایاجا سکتا ہے کہ ا س کے ذریعے انسان کلام کرتا اور اپنے دل کی بات بیان کرتا ہے،اس کے ذریعے معاملات سر انجام دیتا اور کھانے والی چیزوں کے ذ ائقے معلوم کرتا ہے اوراگر انسان کی زبان نہ ہوتی یا زبان تو ہوتی لیکن اس میں گفتگو کرنے کی صلاحیت نہ ہوتی تو انسان کو اپنے معاملات سر انجام دینے کے لئے اشارے اور تحریر کا سہارا لینا پڑتا اور اس سے جو دشواری ہوتی اس کا اندازہ گفتگو کرنے کی صلاحیت سے محروم لوگوں کو دیکھ کر کیا جا سکتا ہے اورا س نعمت پر اللّٰہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے۔حضرت علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اس آیت میں یہ تنبیہ بھی ہے کہ اچھی اور نیک باتوں کے علاوہ انسان کم کلام کیا کرے اور فضول و بے فائدہ کلام نہ کرے اور اللّٰہ تعالیٰ نے جو زبان کو منہ کے اندر رکھا اور ا س کے آگے دو ایسے ہونٹ بنا دئیے جنہیں کھولے بغیر کلام ممکن نہیں ، اس میں یہی حکمت ہے تاکہ بندہ اپنے ہونٹوں کو بند کر کے ان سے کلام نہ کر سکنے پر مدد حاصل کرے۔( روح البیان، البلد، تحت الآیۃ: ۹، ۱۰/۴۳۶)
اوربکثرت اَحادیث میں زبان کی حفاظت کرنے کی ترغیب اور خاموش رہنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے، یہاں ان میں سے 5اَحادیث ملاحظہ ہوں ،چنانچہ
(1)… حضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوکرعرض کی: نجات کا ذریعہ کیا ہے؟ارشاد فرمایا’’ اپنی زبان کو قابو میں رکھو اور تمہیں تمہارا گھر کافی رہے اور اپنی خطاؤں پر رؤ و۔( ترمذی ، کتاب الزہد ، باب ما جاء فی حفظ اللسان، ۴/۱۸۲، الحدیث: ۲۴۱۴، مشکاۃ المصابیح، کتاب الآداب، باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم، الفصل الثانی، ۲/۱۹۳، الحدیث: ۴۸۳۷)
(2)… حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا