Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
683 - 881
دس آدمی اس چمڑے کو کھینچتے رہتے یہاں  تک کہ وہ چمڑہ تو پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا لیکن جتنا اس کے پاؤں  کے نیچے ہوتا وہ ہر گزنہ نکل سکتا تھا اور ایک یہ قول ہے کہ یہ آیت ولید بن مغیرہ کے بارے میں  نازل ہوئی اور آیت کے معنی یہ ہیں  کہ یہ کافر اپنی قوت پرغرور کرتا اور مسلمانوں  کو کمزور سمجھتا ہے ،یہ کس گمان میں  پڑا ہوا ہے اور یہ اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت کو نہیں  جانتا جو کہ قادر برحق ہے۔( ابو سعود، البلد، تحت الآیۃ: ۵، ۵/۸۷۳، مدارک، البلد، تحت الآیۃ: ۵، ص۱۳۴۹، ملتقطاً)
{یَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًا: کہتا ہے کہ میں  نے ڈھیروں  مال ختم کردیا۔} یہاں  سے اس کافر کا قول ذکر کیا گیا، چنانچہ اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ کافر کہتا ہے کہ میں  نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی عداوت اور دشمنی میں  (لوگوں  کو دیدے کر) ڈھیروں  مال ختم کردیا (تاکہ وہ لوگ حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو تکلیف پہنچائیں ۔) کیااس کافرکا یہ گمان ہے کہ اسے اللّٰہ تعالیٰ نے نہیں  دیکھا اور اللّٰہ تعالیٰ اس سے سوال نہیں  کرے گا کہ اس نے یہ مال کہاں  سے حاصل کیا اور کس کام پر خرچ کیا،ایسا ہر گز نہیں ، اللّٰہ تعالیٰ ا س کی خبیث نیت اور باطنی فساد سے باخبر ہے اور وہ اسے اس کی سزا دے گا۔( خازن، البلد، تحت الآیۃ: ۶-۷، ۴/۳۸۰، روح البیان، البلد، تحت الآیۃ: ۶-۷، ۱۰/۴۳۵، ملتقطاً)
  بُری نیت سے اور بُری جگہ پر مال خرچ کرنے کا انجامـ:
	اس سے معلوم ہو ا کہ بری نیت سے اور بری جگہ پر مال خرچ کرنے کا انجام بہت سخت ہے،اس سے وہ لوگ عبرت حاصل کریں  جو رشوت کے ذریعے دنیا کا عہدہ اور منصب حاصل کرنے لئے اور شادی کی ناجائز رسموں  کو پورا کرنے کے لئے بے تحاشہ مال خرچ کرتے ہیں  اسی طرح وہ لوگ بھی درس حاصل کریں  کہ جو ظاہری طور پر تو نیک کاموں  میں  اپنا مال خرچ کر رہے ہیں  لیکن ان کی نیت یہ ہے کہ ا س عمل سے لوگ ان کی واہ واہ کریں  اورلوگوں  میں  ان کی نیک نامی مشہور ہو۔ایسے لوگوں  کے لئے درج ذیل دو اَحادیث میں  بھی بڑی عبرت ہے،چنانچہ
(1)…حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’قیامت کے دن انسان اپنے رب کی بارگاہ سے اس وقت تک قدم نہ ہٹا سکے گا جب تک اس سے ان پانچ چیزوں  کے بارے میں  سوال نہ کر لیا جائے(1)اس کی زندگی کے بارے میں  کہ اسے کن کاموں  میں  گزارا۔ (2)اس