کو مشقت میں رہتا پیدا کیا کہ وہ حمل کے دوران ایک تنگ و تاریک مکان میں رہے، ولادت کے وقت تکلیف اُٹھائے، دودھ پینے ،دودھ چھوڑنے ،مَعاش کے حصول اور زندگی و موت کی مشقتوں کو برداشت کرے۔( خازن، البلد، تحت الآیۃ: ۴، ۴/۳۸۰)
مَصائب اور تکالیف میں بے شمار حکمتیں ہیں:
یاد رہے کہ ان مَصائب اور تکالیف میں اللّٰہ تعالیٰ کی بے شمار حکمتیں ہیں ،ہمارا نفسِ اَمّارہ مست گھوڑا ہے، اگر اس کے منہ میں ان تکالیف کی لگام نہ ہو تو یہ ہمیں ہلا ک کردے گا کیونکہ ان تکالیف کی لگام کے باوجود انسان کا حال یہ ہے کہ ظلم اور قتل و غارت گری انسان نے کی ،چوری ڈکیتی کی وارداتوں کا مُرتکِب انسان ہوا،فحاشی و عُریانی کے سیلاب انسان نے بہائے ،نبوت کا جھوٹا دعویٰ حتّٰی کہ خدائی تک کا دعویٰ انسان نے کیا اور اگر ان تکالیف کی لگام ہٹا لی جائے تو انسان کا جو حال ہو گاوہ تصوُّر سے بالا تر ہے۔
اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌۘ(۵) یَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًاؕ(۶) اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَهٗۤ اَحَدٌؕ(۷)
ترجمۂکنزالایمان: کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہرگز اس پر کوئی قدرت نہیں پائے گا۔کہتا ہے میں نے ڈھیروں مال فنا کر دیا۔کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اسے کسی نے نہ دیکھا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہرگز اس پر کوئی قدرت نہیں پائے گا۔کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال ختم کردیا۔کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اسے کسی نے نہ دیکھا۔
{اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌ: کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہرگز اس پر کوئی قدرت نہیں پائے گا۔} ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت ابوالاشد اُسید بن کَلدہ کے بار ے میں نازل ہوئی، یہ انتہائی مضبوط اورطاقتور شخص تھا اور اس کی طاقت کا یہ عالَم تھا کہ چمڑہ پاؤں کے نیچے دبالیتا اور اعلا ن کرتا کہ کون ا س چمڑے کو میرے پاؤں کے نیچے سے نکالے گا ،چنانچہ دس