اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کیا خوب فرماتے ہیں :
طیبہ میں مر کے ٹھنڈے چلے جاؤ آنکھیں بند سیدھی سڑک یہ شہرِ شفاعت نگر کی ہے
وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَۙ(۳) لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍؕ(۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور تمہارے باپ ابراہیم کی قسم اور اس کی اولاد کی کہ تم ہو۔بیشک ہم نے آدمی کو مشقت میں رہتا پیدا کیا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور باپ کی قسم اور اس کی اولاد کی۔ یقینا بیشک ہم نے آدمی کو مشقت میں رہتا پیدا کیا۔
{وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَ: اور باپ کی قسم اور اس کی اولاد کی۔} اس آیت کے بارے میں مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ یہاں باپ سے مراد حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں اور ان کی اولاد سے مراد حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں اور چونکہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ بھی بالواسطہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ا س لئے اولاد کی قسم میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ بھی داخل ہیں ۔دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں باپ سے مراد حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں اور اولاد سے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ذُرِّیَّت مراد ہے، اور تیسراقول یہ بھی ہے کہ یہاں والد سے سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ اور اولاد سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی امت مراد ہے۔( روح البیان، البلد، تحت الآیۃ: ۳، ۱۰/۴۳۴) اس کی تائید حدیث ِپاک سے بھی ہوتی ہے جیساکہ سنن نسائی میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور ِاَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’میں تمہارے لئے باپ کی طرح ہو ں ، میں تمہیں (تمہارے دینی معاملات) سکھاتا ہوں ۔( نسائی، کتاب الطہارۃ، باب النّہی عن الاستطابۃ بالرّوث، ص۱۵، الحدیث:۴۰)
{لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍ: یقینا بیشک ہم نے آدمی کو مشقت میں رہتا پیدا کیا۔} اللّٰہ تعالیٰ نے شہر مکہ کی ،حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی قسم یاد کرکے ارشاد فرمایا کہ بیشک ہم نے آدمی