Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
680 - 881
(1)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’مجھے اس بستی کی طرف ہجرت کا حکم دیا گیا جو تمام بستیوں  کو کھا جاتی ہے،لوگ اسے یَثْرِب کہتے ہیں  حالانکہ وہ مدینہ ہے اور وہ برے لوگوں  کو ا س طرح دور کرتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کرتی ہے۔( بخاری، کتاب فضائل المدینۃ، باب فضل المدینۃ وانّہا تنفی الناس، ۱/۶۱۷، الحدیث: ۱۸۷۱)
(2)… حضرت جابر بن سمرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ بے شک اللّٰہ تعالیٰ نے مدینہ کا نام ’’طابہ‘‘ رکھا ہے۔( مسلم، کتاب الحج، باب المدینۃ تنفی شرارہا، ص۷۱۷، الحدیث: ۴۹۱(۱۳۸۵))
(3)… حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’مدینہ منورہ کے دونوں  پتھریلے کناروں  کے درمیان کی جگہ کو میری زبان سے حرم قرار دیاگیا ہے۔( بخاری، کتاب فضائل المدینۃ، باب حرم المدینۃ، ۱/۶۱۶، الحدیث: ۱۸۶۹)
(4)… حضرت سہل بن حنیف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ،سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے اپنے دست ِاَقدس سے مدینہ منورہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا’’ بے شک یہ حرم ہے اور امن کا گہوارہ ہے۔( معجم الکبیر، باب السین، یسیر بن عمرو عن سہل بن حنیف، ۶/۹۲، الحدیث: ۵۶۱۱)
(5)… حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے دعا فرمائی کہ ’’اے اللّٰہ!، جتنی برکتیں  مکہ میں  نازل کی ہیں  ا س سے دگنی برکتیں  مدینہ میں  نازل فرما۔( بخاری، کتاب فضائل المدینۃ، ۱۱-باب، ۱/۶۲۰، الحدیث: ۱۸۸۵)
(6)…حضرت عبداللّٰہ بن زید انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغوں  میں  سے ایک باغ ہے۔( بخاری، کتاب فضل الصلاۃ فی مسجد مکۃ والمدینۃ، باب فضل ما بین القبر والمنبر، ۱/۴۰۲، الحدیث: ۱۱۹۵)
(7) …حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جس شخص کو مدینہ منورہ میں  موت آ سکے تو اسے یہاں  ہی مرنا چاہئے،کیونکہ میں  یہاں  مرنے والوں  کی (خاص طور پر) شفاعت کروں  گا۔( ترمذی، کتاب المناقب، باب فی فضل المدینۃ، ۵/۴۸۳، الحدیث: ۳۹۴۳)