(1)… قرآن کے علاوہ بھی اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف وحی بھیجی جاتی تھی کیونکہ آیت میں بیان کردہ درختوں کو کاٹنے کا اذنِ الٰہی قرآن میں کہیں مذکور نہیں تو یہ اجازت قرآن کے علاوہ وحی میں ہی دی گئی تھی۔
(2)… جہاد میں کفار کو مغموم کرنے کے لئے ان کا مال برباد کر ناجائز ہے۔
وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌﳝ(۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور جو غنیمت دلائی اللّٰہ نے اپنے رسول کو ان سے تو تم نے ان پر نہ اپنے گھوڑے دوڑائے تھے نہ اونٹ ہاں اللّٰہ اپنے رسولوں کے قابو میں دے دیتا ہے جسے چاہے اور اللّٰہ سب کچھ کرسکتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللّٰہ نے اپنے رسول کو ان سے جو غنیمت دلائی تو تم نے اس پر نہ اپنے گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ اونٹ ،ہاں اللّٰہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے غلبہ دیدیتا ہے اور اللّٰہ ہر شے پر خوب قادرہے۔
{وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ: اور اللّٰہ نے اپنے رسول کو ان سے جو غنیمت دلائی ۔} بنو نضیر کے یہودیوں کو دی جانے والی سزا بیان کرنے کے بعد اب یہاں سے اُن اَموال کا حکم بیان کیا جا رہے جو اِن سے حاصل ہوئے ، چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کوبنو نضیر کے یہودیوں سے جو غنیمت دلائی تو تم نے ان پر نہ اپنے گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ اونٹ ،یعنی اس کیلئے تمہیں کوئی مشقت اور کوفت نہیں اٹھانا پڑی ، صرف دو میل کا فاصلہ تھا ،سب لوگ پیدل چلے گئے اور صرف رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سوار ہوئے،ہاں اللّٰہ تعالیٰ اپنے رسولوں عَلَیْہِ مُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جس دشمن پر چاہتا ہے غلبہ دے دیتا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے۔