تو بیشک اللّٰہ تعالیٰ اسے سخت سزا دینے والاہے۔( مدارک، الحشر، تحت الآیۃ: ۳، ص۱۲۲۳)
مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآىٕمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ(۵)
ترجمۂکنزالایمان: جو درخت تم نے کاٹے یا ان کی جڑوں پر قائم چھوڑ دئیے یہ سب اللّٰہ کی اجازت سے تھا اور اس لیے کہ فاسقوں کو رسوا کرے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: (اے مسلمانو!)تم نے جو درخت کاٹے یا ان کی جڑوں پر قائم چھوڑ دئیے تویہ سب اللّٰہ کی اجازت سے تھا اور اس لیے تاکہ اللّٰہ نافرمانوں کو رسوا کرے۔
{مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآىٕمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا: تم نے جو درخت کاٹے یا ان کی جڑوں پر قائم چھوڑ دئیے۔} شانِ نزول :جب بنونَضِیْراپنے قلعوں میں پناہ گزیں ہوئے تو سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کے درخت کاٹ ڈالنے اور اُنہیں جلادینے کا حکم دیا ،اس پر وہ دشمنانِ خدا بہت گھبرائے اور رنجیدہ ہوئے اور کہنے لگے کہ کیا تمہاری کتاب میں اس کا حکم ہے؟(یہ سن کر) مسلمان اس بارے میں مختلف ہوگئے اوربعض نے کہا :درخت نہ کاٹو یہ غنیمت ہے جو اللّٰہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائی۔ بعض نے کہا :اس سے کفار کو رسوا کرنا اور انہیں غیظ میں ڈالنا منظور ہے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اس میں بتایاگیا کہ مسلمانوں میں جو درخت کاٹنے والے ہیں ان کا عمل بھی درست ہے اور جو کاٹنا نہیں چاہتے وہ بھی ٹھیک کہتے ہیں کیونکہ درختوں کو کاٹنا اور باقی چھوڑ دینا یہ دونوں اللّٰہ تعالیٰ کی اجازت سے تھے اور اجازت دینا اس لئے تھا کہ اس کے ذریعے اللّٰہ تعالیٰ یہود یوں کو ذلیل کرے۔( خازن، الحشر، تحت الآیۃ: ۵، ۴/۲۴۶، ملخصاً)
آیت’’مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ‘‘سے معلوم ہونے والے مسائل:
ا س آیت سے2 مسئلے معلوم ہوئے :