Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
69 - 881
مرا دیہ ہے کہ بنو نَضِیْر سے جو مالِ غنیمت حاصل ہوئے اُن کیلئے مسلمانوں  کو جنگ نہیں  کرنا پڑی بلکہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اُن پر مُسلَّط کردیا تو یہ مال حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مرضی پر مَوقوف ہے،وہ جہاں  چاہیں  خرچ کریں  ۔رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے یہ مال مہاجرین پر تقسیم کردیا اور انصار میں  سے صرف تین صاحب ِحاجت لوگوں  کو دیا اور وہ تین حضرت ابودجانہ سماک بن خرشہ ،حضرت سہل بن حنیف اور حضرت حارث بن صمّہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ  ہیں ۔( مدارک، الحشر، تحت الآیۃ: ۶، ص۱۲۲۴، خازن، الحشر، تحت الآیۃ: ۶، ۴/۲۴۶، ملتقطاً)
مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِۙ- كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْؕ-وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ(۷)
ترجمۂکنزالایمان:  جو غنیمت دلائی اللّٰہ نے اپنے رسول کو شہر والوں  سے وہ اللّٰہ اور رسول کی ہے اور رشتہ داروں  اور یتیموں  اور مسکینوں  اور مسافروں  کے لیے کہ تمہارے اغنیا کا مال نہ ہوجائے اور جو کچھ تمہیں  رسول عطا فرمائیں  وہ لو اور جس سے منع فرمائیں  باز رہو اور اللّٰہ سے ڈرو بے شک اللّٰہ کا عذاب سخت ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ نے اپنے رسول کو شہر والوں  سے جو غنیمت دلائی تو وہ اللّٰہ اور رسول کے لیے ہے اور رشتہ داروں  کے لیے اور یتیموں  اور مسکینوں  اور مسافروں  کے لیے ہے تاکہ وہ دولت تمہارے مالداروں  کے درمیان (ہی) گردش کرنے والی نہ ہوجائے اوررسول جو کچھ تمہیں  عطا فرمائیں  وہ لے لو اور جس سے تمہیں  منع فرمائیں  تو تم باز رہو اور اللّٰہ سے ڈرو بیشک اللّٰہ سخت عذاب دینے والاہے۔