مال کی محبت مُطلَقاً بری نہیں بلکہ بہت گہری محبت بری ہے۔ گہر ی محبت کی کئی صورتیں ہیں : جہاں خرچ کرنا ضروری ہے وہاں بھی خرچ نہ کرے،حلال و حرام میں تمیز باقی نہ رکھے، سوتے جاگتے مال حاصل کرنے کی فکر میں رہے، مال کی طلب میں آخرت سے بے پرواہ اور اللّٰہ و رسول سے غافل ہو جائے، مال طلبی میں فرائض و واجبات ترک کردے ، وغیرہا۔
كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ(۲۱)
ترجمۂکنزالایمان: ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر ریزہ ریزہ کردی جائے گی۔
{كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّا: ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر ریزہ ریزہ کردی جائے گی۔} یہاں سے قیامت آنے پر جو ہولناک واقعات رونما ہوں گے ان کا بیان کیا گیا ہے چنانچہ وہاں کے تفصیلی واقعات کتب ِ اَحادیث بلکہ خود قرآنِ پاک میں موجود ہیں جیسے سورۂ تکویر، سورۂ انفظار، سورۃ القیامہ ، سورۂ زلزال وغیرہ میں وہ اَحوال موجود ہیں ۔ یہاں فرمایا گیا کہ زمین ٹکرا کرپاش پاش کردی جائے گی اور اس پر پہاڑ اور عمارت کسی چیز کا نام و نشان نہ رہے گا، نہ کوئی پہاڑ، نہ غار، نہ عمارت، نہ پلازے، نہ پل نہ کچھ اور یہ سب کچھ پہلے نَفخے کے وقت ہو گاجبکہ دوسرے نَفخہ پر زمین لوہے کی طرح سخت اور میدہ کی روٹی کی طرح چکنی و صاف ہوجائے گی۔
وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ(۲۲)
ترجمۂکنزالایمان: اور تمہارے رب کا حکم آئے اور فرشتے قطار قطار۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تمہارے رب کا حکم آئے گااور فرشتے قطاردر قطار (آئیں گے)۔
{وَ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا: اور تمہارے رب کا حکم آئے گااور فرشتے قطاردر قطار۔} یہاں قیامت