اور ارشاد فرمایا: ’’اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ(۱) حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ(۲) كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ(۳) ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَؕ(۴) كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِؕ(۵) لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَۙ(۶) ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَیْنَ الْیَقِیْۙنِ(۷) ثُمَّ لَتُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَىٕذٍ عَنِ النَّعِیْمِ‘‘(تکاثر:۱۔۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: زیادہ مال جمع کرنے کی طلب نےتمہیں غافل کردیا ۔یہاں تک کہ تم نے قبروں کا منہ دیکھا۔ہاں ہاں اب جلد جان جاؤ گے۔پھر یقینا تم جلد جان جاؤ گے۔یقینا اگر تم یقینی علم کے ساتھ جانتے(تو مال سے محبت نہ رکھتے)۔ بیشک تم ضرور جہنم کو دیکھو گے۔پھر بیشک تم ضرور اسے یقین کی آنکھ سے دیکھو گے۔پھر بیشک ضرور اس دن تم سے نعمتوں کے متعلق پوچھا جائے گا۔
اوراُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ اگر ابن ِآدم کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں تو (اس کے باوجود) وہ یہ پسند کرے گا کہ ا س کے پاس تیسری سونے کی وادی (بھی) ہو،ابن ِآدم کا پیٹ مٹی ہی بھر سکتی ہےاور جو توبہ کرے اللّٰہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔( مسند ابو یعلی، مسند عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا، ۴/۸۲، الحدیث: ۴۴۴۳)
حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اگر آدمی کے پاس اتنا مال ہو جس سے میدا ن بھر جائے تو وہ ضرور چاہے گا کہ اُس کے پاس اور مال ہو اورا ٓدمی کی آنکھ کو مٹی ہی بھر سکتی ہے۔( بخاری، کتاب الرّقاق، باب ما یتّقی من فتنۃ المال، ۴/۲۲۹، الحدیث: ۶۴۳۷)
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’دینار و درہم کے بندے نیز ریشمی چادروں اور اونی کپڑوں کے بندے ہلاک ہوئے کیونکہ اگر یہ چیزیں انہیں دے دی جائیں تو وہ راضی ہو گئے اور اگر نہ دی جائیں تو وہ راضی نہیں ہوتے۔( بخاری، کتاب الرّقاق، باب ما یتّقی من فتنۃ المال، ۴/۲۲۸، الحدیث: ۶۴۳۵)
البتہ یہاں یہ یاد رہے کہ آیت میں فرمایا گیا کہ تم مال سے بہت زیادہ محبت کرتے ہو ۔اس سے معلوم ہوا کہ