Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
672 - 881
کا دوسرا منظر بیان فرمایا گیا کہ تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کا حکم آئے گا اور فرشتے قطار در قطار آئیں  گے۔ اللّٰہ تعالیٰ کیلئے آنے کا بیان مُتشابہات میں  سے ہے کہ ا س کے لغوی معنی معلوم ہیں لیکن حقیقی مراد اللّٰہ تعالیٰ جانتا ہے اور علمائِ تاویل کے اعتبار سے رب عَزَّوَجَلَّ کے آنے سے مراد اس کے اَحکام کاآنا ہے، کیونکہ یہ قطعی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ آنے جانے اور اس جیسے تمام عَوارض سے پاک ہے، وہ مکان سے مُنَزّہ ہے۔ اور حکمِ الٰہی آنے سے مراد حساب و کتاب کا حکم ، اور لوگوں  کا فیصلہ ہے یعنی قیامت کے دن یہ احکام آئیں  گے اور جہاں  تک فرشتوں  کے آنے کا تعلق ہے تو میدانِ محشر میں ہر آسمان کے فرشتوں  کی علیحدہ قطار یا دوز خ کے ہر طبقہ اور جنت کے تمام طبقوں  کی علیحدہ قطاریں یا مُقَرّب فرشتوں  یا اور اَقسام کے فرشتوں  کی علیحدہ علیحدہ قطاریں  ہوں  گی ۔ 
وَ جِایْٓءَ یَوْمَىٕذٍۭ بِجَهَنَّمَ ﳔ یَوْمَىٕذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ(۲۳) یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ(۲۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور اس دن جہنم لائی جائے اس دن آدمی سوچے گا اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں ۔ کہے گا ہائے کسی طرح میں  نے جیتے جی نیکی آگے بھیجی ہوتی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس دن جہنم لائی جائے گی ،اس دن آدمی سوچے گا اور اب اس کے لئے سوچنے کا وقت کہاں ؟ وہ کہے گا : اے کاش کہ میں  نے اپنی زندگی میں  (کوئی نیکی) آگے بھیجی ہوتی۔
{وَ جِایْٓءَ یَوْمَىٕذٍۭ بِجَهَنَّمَ: اور اس دن جہنم لائی جائے گی۔} قیامت کے دن جہنم کو لائے جانے کا منظر بڑا ہَولْناک ہے چنانچہ مفسرین فرماتے ہیں  کہ جہنم کی ستر ہزار باگیں  ہوں  گی ہر باگ پر ستر ہزار فرشتے جمع ہو کر اس کو کھینچیں  گے اور وہ جوش و غضب میں  ہوگی یہاں  تک کہ فرشتے اس کو عرش کے بائیں  جانب لائیں  گے، اس روز سب نفسی نفسی کہتے ہوں  گے ،سوائے حضور پُرنور، حبیب ِخدا، سیّد ِانبیاء صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے کہ حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ’’یَارَبِّ اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ‘‘ فرماتے ہوں  گے ،جہنم حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے عرض کرے گی کہ اے سیّد ِعالَم!