Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
669 - 881
زمین، جائیداد، مال، وراثت اور ملکیت پر قبضے کرتے ہو بلکہ اسی سبب سے قتل و غارَتگَری کرتے ہو ۔ الغرض فساد کی جڑ یعنی مال کی محبت کی وجہ سے ہر طرح کا بگاڑ پیدا کرتے ہو۔
مال کی محبت انتہائی تباہ ُکن ہے:ـ
	 مال کی محبت نہایت تباہ کن ہے، اسی لئے قرآن و حدیث میں  اس کی بکثرت مذمت بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِؕ-ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ-وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ‘‘(ال عمران:۱۴)
ترجمۂکنزُالعِرفان: لوگوں  کے لئے ان کی خواہشات کیمحبت کو آراستہ کردیا گیا یعنی عورتوں  اور بیٹوں  اور سونے چاندی کے جمع کئے ہوئے ڈھیروں  اور نشان لگائے گئے گھوڑوں  اورمویشیوں  اور کھیتیوں  کو (ان کے لئے آراستہ کردیا  گیا۔) یہ سب دنیوی زندگی کا سازوسامان ہے اور صرفاللّٰہ کے پاس اچھا ٹھکاناہے۔
	اور ارشاد فرمایا: ’’مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ‘‘(ہود:۱۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: جو دنیا کی زندگی اوراس کی زینتچاہتا ہو توہم دنیا میں  انہیں  ان کے اعمال کا پورا بدلہ دیں  گے اورانہیں  دنیا میں  کچھ کم نہ دیا جائے گا۔
	اور ارشاد فرمایا: ’’مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖۚ-وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ‘‘(شوری:۲۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان: جو آخرت کی کھیتی چاہتا ہے تو ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں  اضافہ کردیتے ہیں  اور جو دنیا کی کھیتی چاہتاہے توہم اسے اس میں  سے کچھ دیدیتے ہیں  اور آخرت میں  اس کا کچھ حصہ نہیں ۔