Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
66 - 881
ان یہودیوں  کے طرزِ عمل اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو اور ان جیسے افعال کرنے سے بچو۔( خازن،الحشر،تحت الآیۃ:۲، ۴/۲۴۴-۲۴۵، جلالین، الحشر، تحت الآیۃ: ۲، ص۴۵۴، مدارک، الحشر، تحت الآیۃ: ۱-۲، ص۱۲۲۲-۱۲۲۳، ملتقطاً)
وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَاؕ-وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ(۳)ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۚ-وَ مَنْ یُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر نہ ہوتا کہ اللّٰہ نے اُن پر گھر سے اجڑنا لکھ دیا تھا تو دنیا ہی میں  ان پر عذاب فرماتا اور ان کے لیے آخرت میں  آگ کا عذاب ہے۔ یہ اس لیے کہ وہ اللّٰہ سے اور اس کے رسول سے پھٹے رہے اور جو اللّٰہ اور اس کے رسول سے پھٹا رہے تو بے شک اللّٰہ کا عذاب سخت ہے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگریہ بات نہ ہوتی کہ اللّٰہ نے ان پر گھر وں  سے اجڑنا لکھ دیا تھا تو ضرور وہ دنیا ہی میں  انہیں  عذاب دے دیتا اور ان کے لیے آخرت میں  آگ کا عذاب ہے۔یہ (سزا)اس لیے ہے کہ انہوں  نے اللّٰہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو اللّٰہ کی مخالفت کرے تو بیشک اللّٰہ سخت سزا دینے والاہے۔
{وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ: اور اگریہ بات نہ ہوتی کہ اللّٰہ نے ان پر گھر وں  سے اجڑنا لکھ دیا تھا ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگریہ بات نہ ہوتی کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان یہودیوں  کا مال اور اولاد کے ساتھ گھروں  سے جلا وطن ہونا لکھ دیا تھا تو وہ دنیا ہی میں  انہیں  عذاب دے دیتا اور بنو قریظہ کے یہودیوں  کی طرح انہیں  بھی قتل اور قید میں  مبتلا کرتا اور یہ لوگ خواہ جلاوطن کئے جائیں  یا قتل کئے جائیں  بہر حال ان کے لیے آخرت میں  آگ کا عذاب ہے جس سے سخت کوئی عذاب نہیں  ،انہیں  یہ سزااس لیے دی گئی ہے کہ یہ لوگ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مخالفت کرتے رہے اور(قانون یہ ہے کہ ) جو اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے