Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
668 - 881
تعالیٰ کے ہاں  تمہاری ذلت کا سبب یہ ہے کہ تم یتیم کی عزت نہیں  کرتے اور دولت مند ہونے کے باوجوداُن کے ساتھ اچھے سلوک نہیں  کرتے اور انہیں  اُن کے حقوق نہیں  دیتے جن کے وہ وارث ہیں ۔ مقاتل نے کہا کہ امیہ بن خلف کے پاس قد امہ بن مظعون یتیم تھے وہ انہیں  ان کا حق نہیں  دیتا تھا، اس پر یہ آیتِ مبارک نازل ہوئی۔( خازن، الفجر، تحت الآیۃ: ۱۷، ۴/۳۷۷-۳۷۸)
{وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِ: اور تم ایک دوسرے کو مسکین کے کھلانے کی ترغیب نہیں  دیتے۔} یعنی تمہاری ذلت کا دوسرا سبب یہ ہے کہ تم خود بھی کھانے کی خیرات نہیں  کرتے اوردوسروں  کو بھی اس کی رغبت نہیں  دیتے بلکہ اس سے روکتے ہو۔ 
وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ(۱۹) وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ(۲۰)
ترجمۂکنزالایمان: اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو۔ اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور میراث کا سارا مال جمع کرکے کھاجاتے ہو۔ اور مال سے بہت زیادہ محبت رکھتے ہو۔
{وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّا: اور میراث کا سارا مال جمع کرکے کھاجاتے ہو۔} یہاں  کفار کی تیسری خرابی اور ذلت کا بیان ہے کہ تم میراث کا مال کھاجاتے ہو اور حلال و حرام میں  تمیز نہیں  کرتے اور عورتوں  اور بچوں  کو وراثت کا حصہ نہیں  دیتے بلکہ اُن کے حصے خود کھا جاتے ہو، جاہلیَّت میں  یہی دستور تھا۔
	اس بیان کردہ ظلم میں  بہت سی صورتیں  داخل ہیں  اور فی زمانہ جو چچا تایا قسم کے لوگ یتیم بھتیجوں  کے مال پر قبضہ کرلیتے ہیں  یا روٹین میں  جو بہنوں ، بیٹیوں  یا پوتیوں  کو وراثت نہیں  دی جاتی وہ بھی اسی میں  داخل ہے کہ شدید حرام ہے۔
{وَ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا: اور مال سے بہت زیادہ محبت رکھتے ہو۔} یہاں  کفار کی ذلت اور چوتھی خصلت بیان کی گئی ہے اور یہ حقیقت میں  بقیہ جملہ اَمراض کی جڑ اور بنیاد ہے اور وہ ہے مال اور دنیا کی محبت۔چنانچہ ارشاد فرمایا کہ تم مال سے بہت زیادہ محبت کرتے ہو کہ اس کو خرچ کرنا ہی نہیں  چاہتے اور اسی سبب سے یتیموں  کی عزت نہیں  کرتے، مسکینوں  کو کھانا نہیں  کھلاتے، دوسروں  کو صدقہ و خیرات کی ترغیب نہیں  دیتے بلکہ دوسروں  کا مال کھاجاتے ہو، ان کی