تقویٰ ہے اور مردودیت کا سبب نافرمانی ہے۔
ان آیاتِ مبارکہ میں جو طرز ِ عمل بیان کیا گیا ہے یہ حقیقتاً کفار کا ہے لیکن افسوس کہ آج کل کے بہت سے نام نہاد مسلمان بھی غیر مسلموں کی دُنْیَوی ترقی سے مرعوب ہوکرایسی سوچ بنالیتے ہیں کہ اگر کفار مردود ہیں تو اتنی نعمت و ترقی میں کیوں ہیں اور اگر مسلمان مقبول ہیں تو اتنی ذلت و پستی میں کیوں ہیں حالانکہ بات بالکل واضح ہے کہ مسلمان کی موجودہ پستی اسلام کی وجہ سے نہیں بلکہ ترک ِ اسلام کی وجہ سے ہے یعنی اسلامی تعلیمات چھوڑنے کی وجہ سے ہے اور کفار کی ترقی ان کے کفر کی وجہ سے نہیں بلکہ زندگی گزارنے کی جو حقیقی اسلامی تعلیمات ہیں ان میں بہت ساری چیزوں پر عمل کی وجہ سے ہے۔
كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ(۱۷) وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِۙ(۱۸)
ترجمۂکنزالایمان: یوں نہیں بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔ اور آپس میں ایک دوسرے کو مسکین کے کھلانے کی رغبت نہیں دیتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہرگزنہیں بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔ اور تم ایک دوسرے کو مسکین کے کھلانے کی ترغیب نہیں دیتے۔
{كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَ: ہرگزنہیں بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔} ارشادفرمایا کہ عزت و ذلت کا معیاروہ ہرگزنہیں جو تم نے سمجھ رکھا ہے کہ عزت ،دولت کی وجہ سے اور ذلت، غربت کی وجہ سے ہوتی ہے ، مال ودولت کی یہ تقسیم تو اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ کبھی کسی حکمت سے دشمن کو دولت دے دیتا ہے اورکبھی مخلص بندے کو فقر و فاقہ میں مبتلا کردیتا ہے۔ اصل عزت و ذلت کا معیار طاعت و مَعصِیَت پر ہے لیکن کفار اس حقیقت کو نہیں سمجھتے اور یونہی ان کے جاہل مُقَلِّد بھی اس حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ تم میں سے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جو ذلیل ہے وہ وہ نہیں جو مال کی کمی کا شکار ہے بلکہ اللّٰہ