Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
661 - 881
مراد کیا ہے؟ اس بارے میں  مفسرین فرماتے ہیں  کہ اس سے خاص مُزدلفہ کی رات مراد ہے جس میں  بندگانِ خدا طاعت ِالٰہی کے لئے جمع ہوتے ہیں بلکہ اس رات اور مقامِ مزدلفہ کی فضیلت میں  قرآن مجیدکی آیت موجود ہے ،چنانچہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے: ’’فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ۪-وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْۚ-وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ‘‘(بقرہ:۱۹۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو جب تم عرفات سے واپس لوٹو تو مشعر ِحرام کے پاس اللّٰہ کو یاد کرو اور اس کا ذکر کروکیونکہ اس  نے تمہیں  ہدایت دی ہے اگرچہ اس سے پہلے تم یقینابھٹکے ہوئے تھے۔
	 نیز حدیث ِمبارک میں  حضرت جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ عرفات سے مُزدلفہ میں  تشریف لائے ،یہاں  مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی ،پھر لیٹے یہاں  تک کہ فجر طلوع ہوئی ،جب صبح ہوئی تو اُس وقت اذان و اِقامت کے ساتھ نمازِ فجر پڑھی ، پھر قَصْواء اونٹنی پر سوار ہو کر مَشْعَرِ حرام میں  آئے اورقبلہ کی جانب منہ کرکے دعا ، تکبیر و تہلیل اور اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیَّت بیان کرنے میں  مشغول رہے اور وقوف کیا یہاں  تک کہ خوب اُجالا ہو گیا اور طلوعِ آفتاب سے قبل یہاں  سے روانہ ہوئے ۔( مسلم، کتاب الحج، باب حجّۃ النبی صلّی اللّٰہ علیہ وسلم، ص۶۳۴، الحدیث: ۱۴۷(۱۲۱۸))
	 بعض علماء کے بقول یہ رات حاجیوں  کیلئے شب ِ قدر سے بھی افضل ہے۔
	آیت میں  مذکور رات کے بارے میں  ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے شبِ قدر مراد ہے جس میں  رحمت کا نزول ہوتا ہے اور جو ثواب کی کثرت کے لئے مخصوص ہے اور جس کے بارے میں  خود قرآنِ پاک کی پوری سورت موجود ہے۔نیز ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے عام رات یعنی ہر رات مراد ہے کہ رات بذاتِ خود بہت سے عجائبات و اَسرار پر مشتمل ہے۔ 
هَلْ فِیْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍؕ(۵)