ترجمۂکنزالایمان: کیوں اس میں عقل مند کے لیے قسم ہوئی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا اس قسم میں عقلمند کے لیے قسم ہے؟
{هَلْ فِیْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍ: کیا اس قسم میں عقلمند کے لیے قسم ہے؟} گزشتہ آیات میں پانچ قَسمیں ارشاد ہوئیں اور ان کے بارے میں فرمایا کہ بیشک یہ مذکورہ بالا چیزیں عقل والوں کے نزدیک ایسی عظمت رکھتی ہیں کہ خبروں کواُن کے ساتھ مُؤکَّد کرنا بہت مناسب ہے ۔ اِن ساری قَسموں کا جواب یہ ہے کہ کافر کوضرور عذاب دیا جائے گا۔اِس جواب ِ قسم پر اگلی آیتیں دلالت کرتی ہیں ۔
اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍﭪ(۶) اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِﭪ(۷)
ترجمۂکنزالایمان: کیا تم نے نہ دیکھا تمہارے رب نے عاد کے ساتھ کیسا کیا۔وہ اِرَم حد سے زیادہ طول والے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تم نے نہ دیکھا کہ تمہارے رب نے عاد کے ساتھ کیسا کیا؟ اِرَم (کے لوگ)،ستونوں (جیسے قد) والے۔
{اَلَمْ تَرَ: کیا تم نے نہ دیکھا۔} متعدد قَسموں کے بعد جواب ِ قسم یہ تھاکہ کافروں کو عذاب دیا جائے گا۔ کافروں کا آخرت کا عذاب تو قطعی ہے البتہ بارہا دنیا میں انہیں عذاب دیا گیا چنانچہ اسی کی مثالوں کے طورپر یہاں سے متعدد قوموں کے عذابات کا تذکرہ کیا گیا ہے جس سے اصلِ مقصود اہلِ مکہ اور دیگر کفار کو خوف دلانا ہے۔چنانچہ فرمایا گیا کہ کیا تم نے قومِ عاد کو نہیں دیکھا ۔قومِ عاد کی دو قسمیں ہیں : (1)عاد ِ اُولیٰ، (2)عادِ اُخریٰ۔ یہاں عادِ اُولیٰ مراد ہے جن کے قد بہت دراز تھے ،انہیں عادِ اِرم بھی کہتے ہیں ۔ کفار کو سمجھایا گیا کہ عادِ اُولیٰ جن کی عمریں بہت زیادہ اور قد بہت طویل تھے اور وہ خود نہایت قوی و توانا تھے، انہیں اللّٰہ تعالیٰ نے ہلاک کردیا تو یہ کافر اپنے آ پ کو کیا سمجھتے ہیں اور عذابِ الٰہی سے کیوں بے خوف ہیں ۔
الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِﭪ(۸)