روزہ رکھو۔( مسند امام احمد، مسند عبد اللّٰہ بن العباس... الخ، ۱/۵۱۸، الحدیث: ۲۱۵۴)
وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ(۳) وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِۚ(۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور جُفت اور طاق کی۔ اور رات کی جب چل دے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جفت اور طاق کی۔ اور رات کی جب وہ چل پڑے۔
{وَ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِ: اور جفت اور طاق کی۔} جفت اور طاق سے کیا مراد ہے اس بارے میں مفسرین کے متعدد اَقوال ہیں ،ان میں سے چار اَقوال درج ذیل ہیں ،
(1)…جفت سے مراد ذوالحجہ کی10 تاریخ جس دن حج کے اہم اَفعال سرانجام دئیے جاتے ہیں اور طاق سے مراد 9تاریخ جس دن میدانِ عرفات میں حج ہوتا ہے۔اس دن کی فضیلت کے بارے میں حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشادفرمایا’’اللّٰہ تعالیٰ یومِ عرفہ سے زیادہ کسی دن بندوں کو جہنم سے آزاد نہیں کرتا،اللّٰہ (اپنے بندوں سے) قریب ہوتا ہے،پھر فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے یہ بندے کس ارادے سے آئے ہیں ۔( مسلم، کتاب الحج، باب فی فضل الحج والعمرۃ ویوم عرفۃ، ص۷۰۳، الحدیث: ۴۳۶(۱۳۴۸))
(2)…جفت سے مراد مخلوق اور طاق سے مراد اللّٰہ تعالیٰ کی ذات ہے جیسے حدیثِ مبارک میں ہے : بیشک اللّٰہ تعالیٰ وِتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔( مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار، ص۱۴۳۹، الحدیث: ۵(۲۶۷۷))
(3)…ہر چیز کے جفت اور طاق کی قسم ہے گویا جملہ مخلوقات ِ الٰہی کی قسم ہے۔
(4)…جفت سے مراد 2اور 4رکعت والی نمازیں اور طاق سے مراد 3رکعت والی نماز یعنی مغرب ہے۔( خازن، الفجر، تحت الآیۃ: ۳، ۴/۳۷۴، مدارک، الفجر، تحت الآیۃ: ۳، ص۱۳۴۵، ملتقطاً)
{وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِ: اور رات کی جب وہ چل پڑے۔} رات کے چلنے سے مراد ہے کہ گزرنے لگے۔ اس رات سے