نیزحضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں :حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ رمضان کے آخری عشرے میں باقی دنوں کی بہ نسبت عبادت میں زیادہ جدو جہد کرتے تھے۔( مسلم، کتاب الاعتکاف، باب الاجتہاد فی العشر الاواخر فی شہر رمضان، ص۵۹۹، الحدیث: ۸(۱۱۷۵))
بعض مفسرین نے فرمایا کہ آیت میں مذکور ان راتوں سے مراد محرم الحرام کے پہلے عشرے کی دس راتیں ہیں (کہ ان دس دنوں میں انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بڑے بڑے واقعات رونما ہوئے) اور اس عشرے میں عاشوراء کا دن بھی ہے۔( خازن، الفجر، تحت الآیۃ: ۲، ۴/۳۷۴)
عاشورہ کے فضائل:
یہاں عاشوراء کے دو فضائل بھی ملاحظہ ہوں ،
(1)…حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں :جب رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو دیکھا کہ وہ عاشوراء کے دن روزہ رکھے ہوئے ہیں ،آپ نے ارشاد فرمایا’’یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کی:ـیہ ایک عظمت والا دن ہے اور یہ وہ دن ہے جس میں اللّٰہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دی تو ا س دن (شکرانے کے طور پر) حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے روزہ رکھا۔ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مُوافقت کرنے میں تم سے زیادہ حقدار ہوں ،چنانچہ آپ نے خود بھی روزہ رکھا اوراس دن روزہ رکھنے کا حکم بھی ارشاد فرمایا۔( بخاری، کتاب الصوم، باب صیام یوم عاشوراء، ۱/۶۵۶، الحدیث: ۲۰۰۴)
(2)…حضرت ابوقتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ر وایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’مجھے اللّٰہ تعالیٰ پر گمان ہے کہ عاشورا ء کا روزہ ایک سال پہلے کے گناہ مٹادیتاہے۔( مسلم، کتاب الصیام، باب استحباب ثلاثۃ ایام من کل شہر... الخ، ص۵۸۹، الحدیث: ۱۹۶(۱۱۶۲))
نوٹ:یاد رہے کہ جو عاشوراء کے دن روزہ رکھنا چاہے تواسے چاہئے کہ وہ 9محرم یا 11محرم کا روزہ بھی رکھے تاکہ یہودیوں کی مخالفت ہو سکے، جیسا کہ حدیث پاک میں ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’عاشوراء کے دن کا روزہ رکھو اور اِس میں یہودیوں کی (اس طرح) مخالفت کرو کہ اس سے پہلے یا بعد میں بھی ایک دن کا