نے قلعہ کے اوپر سے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر فاسد ارادے سے ایک پتھر گرانے کا قصد کیا،اللّٰہ تعالیٰ نے حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو خبردار کردیا اور اللّٰہ تعالیٰ کے فضل سے آپ محفوظ رہے۔ غرض جب بنو نَضِیْر کے یہودیوں نے خیانت کی اور عہد شکنی کی اور کفارِ قریش سے حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خلاف عہد کیا تو حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت محمد بن مسلمہ انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو حکم دیا اور اُنہوں نے کعب بن اشرف کو قتل کردیا، پھر حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ لشکر کے ساتھ بنو نَضِیْر کی طرف روانہ ہوئے اور ان کا محاصرہ کرلیا ،یہ محاصرہ اکیس روز رہا ،اس درمیان میں منافقین نے یہود یوں سے ہمدردی اور موافقت کے بہت معاہدے کئے لیکن اللّٰہ تعالیٰ نے ان سب کو ناکام کیا، یہودیوں کے دلوں میں رعب ڈالا اور آخر کار انہیں حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حکم سے جلا وطن ہونا پڑا اور وہ شام ، اریحا اور خیبر کی طرف چلے گئے۔
اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ وہی ہے جس نے بنو نضیرکے یہودیوں کو مدینہ منورہ میں موجود ان کے گھروں سے ان کے پہلے حشر کے وقت نکالا۔یہ جلاوطنی ان کا پہلا حشر ہے اور ان کادوسرا حشر یہ ہے کہ امیر المؤمنین حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے انہیں اپنے زمانہ ِخلافت میں خیبر سے شام کی طرف نکالا، یا دوسری تفسیر یہ ہے کہ(یہ جلاوطنی ان کاپہلاحشرہے اور)آخری حشر روزِ قیامت کا حشر ہے کہ آگ سب لوگوں کو سرزمینِ شام کی طرف لے جائے گی اور وہیں اُن پر قیامت قائم ہوگی۔ اس کے بعد اہلِ اسلام سے خطاب فرمایا جاتا ہے کہ اے مسلمانو! تمہیں گمان نہ تھا کہ وہ مدینہ منورہ سے نکلیں گے کیونکہ وہ قوت اور لشکر والے تھے، مضبوط قلعے رکھتے تھے ،اُن کی تعداد کثیر تھی، جاگیردار اور صاحب ِمال تھے اور وہ یہودی سمجھتے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللّٰہ تعالیٰ سے بچالیں گے تو اللّٰہ تعالیٰ کا حکم ان کے پاس وہاں سے آیا جہاں سے انہیں گمان بھی نہ تھا اور انہیں اس بات کا خطرہ بھی نہ تھا کہ مسلمان اُن پر حملہ آور ہوسکتے ہیں ، اللّٰہ تعالیٰ نے ان کے سردار کعب بن اشرف کے قتل سے ان کے دلوں میں رعب ڈالا جس کے بعد وہ اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے ویران کرتے اور اُنہیں ڈھاتے ہیں تاکہ جو لکڑی وغیرہ انہیں اچھی معلوم ہو وہ جلاوطن ہوتے وقت اپنے ساتھ لے جائیں جبکہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے کفار کے گھر اس طور پر ویران ہوتے ہیں کہ اُن کے مکانوں کے جو حصے باقی رہ جاتے تھے، انہیں مسلمان گرادیتے تھے تاکہ جنگ کیلئے میدان صاف ہوجائے۔ تو اے آنکھیں رکھنے والو!