Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
658 - 881
ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں  کے فضائلـ:
	 حدیث شریف میں  اس عشرہ کی بہت فضیلتیں  وارد ہوئی ہیں ،یہاں  ان میں  سے دو فضائل ملاحظہ ہوں  چنانچہ
(1)… حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک ان دس دنوں  کے مقابلے میں  کسی دن کا عمل زیادہ محبوب نہیں ۔ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، کیا اللّٰہ تعالیٰ کے راستے میں  جہاد بھی نہیں ؟ارشاد فرمایا:ہاں  جہاد بھی نہیں ، البتہ وہ شخص جو اپنی جان اور مال کے ساتھ اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں  نکلا،پھر ان میں  سے کسی چیز کے ساتھ واپس نہ ہوا (یعنی شہید ہوگیا تو اس کا یہ عمل افضل ہے)۔( ترمذی، کتاب الصوم، باب ما جاء فی العمل فی ایام العشر، ۲/۱۹۱، الحدیث: ۷۵۷)
(2)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جن دنوں  میں  اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے ان میں  سے کوئی دن ذی الحجہ کے دس دنوں  سے زیادہ پسندیدہ نہیں ، ان میں  سے (ممنوع دنوں  کے علاوہ) ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں  اور ہر رات کا قیام لیلۃُ القدر کے قیام کے برابر ہے۔( ترمذی، کتاب الصوم، باب ما جاء فی العمل فی ایام العشر، ۲/۱۹۱، الحدیث: ۷۵۸)
	 حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے یہ بھی مروی ہے کہ آیت میں  مذکور ان راتوں  سے رمضان کے آخری عشرے کی راتیں  مراد ہیں  کیونکہ ان میں ( اعتکاف مسنون ہے اور انہی راتوں  میں ) لیلۃُ القدر آتی ہے۔( خازن، الفجر، تحت الآیۃ: ۲، ۴/۳۷۴)
رمضان کے آخری عشرے کی اہمیت:
	تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ رمضان کے آخری عشرے میں  خاص طور پر اِعتکاف فرماتے، اس کی طاق راتوں  میں  شب ِقدر تلاش کرنے کی ترغیب دیتے اور اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرنے میں  خوب جدو جہد فرماتے تھے، چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا  فرماتی ہیں :حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ رمضان کے آخری عشرے میں  اعتکاف فرماتے اور فرمایا کرتے کہ شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں  تلاش کرو۔( بخاری، کتاب فضل لیلۃ القدر، باب تحرّی لیلۃ القدر فی الوتر۔۔۔ الخ، ۱/۶۶۲، الحدیث: ۲۰۲۰)