بیان ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
وَ الْفَجْرِۙ(۱) وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ(۲)
ترجمۂکنزالایمان: اس صبح کی قسم۔اور دس راتوں کی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: صبح کی قسم۔ اور دس راتوں کی۔
{وَ الْفَجْرِ: صبح کی قسم۔} اِس صبح سے مراد یا تویکم محرم کی صبح ہے جس سے سال شروع ہوتا ہے ،یا یکم ذی الحجہ کی جس سے دس راتیں ملی ہوئی ہیں جن میں بطورِ خاص حج کے اَیّام آتے ہیں ،یا عیدالاضحی کی صبح مراد ہے کہ یہ وہ صبح ہے جس میں حج کے اہم رکن طوافِ زیارت کا وقت شروع ہوتا ہے، اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے مراد ہر دن کی صبح ہے کیونکہ وہ رات کے گزرنے ، روشنی کے ظاہر ہونے اور تمام جانداروں کے رزق کی طلب کے لئے مُنتشر ہونے کا وقت ہے اور یہ وقت مُردوں کے قبروں سے اُٹھنے کے وقت کے ساتھ مشابہت و مناسبت رکھتا ہے۔( خازن، الفجر، تحت الآیۃ: ۱، ۴/۳۷۴، ملتقطاً)
{وَ لَیَالٍ عَشْرٍ: اور دس راتوں کی۔} حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ ان سے مراد ذی الحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں کیونکہ یہ زمانہ حج کے اعمال میں مشغول ہونے کا زمانہ ہے۔( خازن، الفجر، تحت الآیۃ: ۱، ۴/۳۷۴)